مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 188

ینزل من السماء۔من غیر ضرب الاعناق وقتل الاعداء۔ویُریٰ کالشمس فی الضیاء۔ثم نقل اھل الظاھر ھٰذہ الاستعارۃ الی الحقیقۃ۔فھٰذہ اوّل مصیبۃ نزلت علٰی ھٰذہ الملۃ۔وما اراد اللّٰہ من انزال المسیح۔الّا لیُری مقابلۃ الملتین بالتصریح۔فان نبینا المصطفٰی کان مثیل موسٰی۔وکانت سلسلۃ خلافۃ الاسلام۔کمثل سلسلۃ خلافۃ الکلیم من اللّٰہ العلّام۔فوجب من ضرورۃ ھٰذہ المماثلۃ والمقابلۃ ان یظھر فی اٰخر ھٰذہ السلسلۃ مسیح کمسیح السلسلۃ الموسویۃ۔ویھود کالیھود الذین کفّروا بقیہ ترجمہ۔بغیر گردنوں کے اُڑانے اور دشمنوں کے قتل کرنے کے آسمان سے نازل ہو گا اور روشنی میں سُورج کی مانند دکھائی دے گا۔لیکن اہل ظاہر نے اس استعارہ کو حقیقت پر محمول کر لیا۔اور یہ پہلی مصیبت تھی جو اس قوم پر نازل ہوئی۔اور انزال مسیح سے خدا تعالیٰ کا ارادہ اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ دونوں اقوام کا مقابلہ صراحت سے دکھائے۔کیونکہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم مثیل موسٰی تھے اور خلافت اسلامیہ کا سلسلہ خدائے علّام کی طرف سے خلافت موسویہ کے سلسلہ کی مانند تھا۔پس اس مماثلت اور مقابلہ کی ضرورت کی وجہ سے یہ ضروری تھا کہ اس سلسلہ کے آخر میں بھی سلسلہ موسویہ کے مسیح کی مانند ایک مسیح ظاہر ہو اور ان یہود کی طرح یہود بھی پیدا ہوں بقیۃ الحاشیۃ۔(۲) ثانیھما لاظہار شھرۃ المسیح الموعود فی اسرع الاوقات والزمان فی جمیع البلدان۔فان الشیٔ الذی ینزل من السماء یراہ کل احدٍ من قریبٍ وبعیدٍ ومن الاطراف والانحاء۔ولایبقٰی علیہ سِتْرٌ فی اَعْین ذوی الانصاف۔ویشاھد کبرقٍ یبرق من طرفٍ الی طرفٍ حتّی یحیط کدائرۃٍ علی الاطراف۔منہ بقیہ ترجمہ حاشیہ۔(۲) دوسری وجہ مسیح موعود کے لئے لفظ نزول کے اختیارکرنے کی یہ ہے کہ اس سے اس بات کا اظہار کرنا مقصود تھا کہ مسیح موعود (وقت اور زمانہ کے لحاظ سے) بہت جلد تمام ممالک میں شہرت پا جائے گا اور جو چیز آسمان سے نازل ہوتی ہے اس کو ہر ایک دیکھ لیتا ہے قریب ہو یا دُور یا اطراف و جوانب سے ہو اور منصف مزاج لوگوں کی نظر میں کوئی پردہ باقی نہیں رہتا اور وہ اس بجلی کی طرح دکھائی دیتی ہے جو ایک طرف سے چمکتی ہے اور پھر تمام اطراف پر ایک دائرہ کی طرح محیط ہو جاتی ہے۔منہ