مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 175

بی اے پلیڈر مقرر ہوں۔اور ان ہردو صاحبان نے اس خدمت کو قبول کر لیا ہے۔امر دوم سرمایہ ہے۔سو اس کے متعلق بالفعل کسی قسم کی رائے زنی نہیں ہو سکتی۔اور یہی ایک بڑا بھاری امر ہے جو سوچنے کے لائق ہے۔اس لئے قرین مصلحت یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک مجلس دوستوں کی منعقد کر کے اس کے متعلق بحث کی جائے اور جو طریق بہتر اور اولیٰ معلوم ہو وہی اختیار کیا جائے مگر یہ بات ظاہر کرنے کے لائق ہے کہ مجھے اس سرمایہ کے انتظام میں کچھ دخل نہیں ہو گا۔اور غالباً اس کو ایک امر تجارتی تصور کر کے ایسے ممبر مقرر کئے جائیں گے جو اس تجارت کے حصّہ دار ہوں گے اور انہی کی تجویز اور مشورہ سے جس طور سے مناسب سمجھیں گے یہ روپیہ جمع ہو کر کسی بینک میں جمع کیا جاوے گا۔لیکن چونکہ ایسے مامور صرف اشتہارات سے تصفیہ نہیں پاسکتے لہذا مَیں نے مناسب سمجھا ہے کہ اس جلسہ کے لئے بڑی عید کا دن قرار پاوے اور جہاں تک ممکن ہو سکے ہمارے دوست کوشش کریں کہ اس دن قادیان پہنچ جائیں۔تب سرمایہ کے متعلق بحث اور گفتگو ہو جائے گی کہ کس طور سے یہ سرمایہ جمع ہونا چاہیے۔اور اس کے خرچ کے لئے انتظام کیا ہو گا۔یہ سب حاضرین جلسہ کی کثرت رائے پر فیصلہ ہو گا۔بالفعل اس کا ذکر قبل از وقت ہے۔ہاں ہر ایک صاحب کو چاہیے کہ اس رائے کے ظاہر کرنے کے لئے طیار ہو کر آئیں۔اور یہ یاد رکھیں کہ یہ چندہ صرف تجارتی طور پر ہو گا۔اور ہر ایک چندہ دینے والا بقدر اپنے روپیہ کے اپنا حق اس تجارت میں قائم کر ے گا۔اوراس کے ہر ایک پہلو پر بحث جلسہ کے وقت میں ہو گی۔یہ خیراتی چندہ نہیں ہے۔ایک طور کی تجارت ہے جس میں شراکت صرف دینی تائید تک ہے۔اس سے زیادہ کوئی امر نہیں ہے۔وَالسّلام۔اس امر کے متعلق خط و کتابت خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر پشاور سے کی جائے۔المشــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتھر مرزا غلام احمد از قادیان ۱۵؍ جنوری ۱۹۰۱ء مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان (یہ اشتہار ایک صفحہ کا فل سکیپ سائز پر ہے ) (تبلیغ رسالت جلد۱۰ صفحہ۱تا۳)