مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 155

ثابت کردیتا ہے۔تب جیسے نور کے نکلنے اور آفتاب کے طلوع ہونے سے یکلخت تاریکی دُور ہو جاتی ہے ایسا ہی تمام اعتراضات پاش پاش ہو جاتے ہیں۔سو مَیں دیکھتا ہوں کہ میری طرف سے بھی خدا یہی جواب دے رہا ہے۔اگر مَیں سچ مچ مفتری اور بدکار اور خائن اور دروغگو تھا تو پھر میرے مقابلہ سے ان لوگوں کی جان کیوں نکلتی ہے۔بات سہل تھی۔۱؎ کسی آسمانی نشان کے ذریعہ سے میرا اور اپنا فیصلہ خدا پر ڈال دیتے اور پھر خدا کے فعل کو بطور ایک حَکم کے فعل کے مان لیتے۔۱؎ مَیں اس مقام تک پہنچا تھا کہ منشی الٰہی بخش اکونٹنٹ کی کتاب عصائے موسیٰ مجھ کو ملی جس میں میری ذاتیات کی نسبت محض سو ئِ ظن سے اور خدا کی بعض سچی اور پاک پیشگوئیوں پر سراسر شتابکاری سے حملے کئے گئے ہیں۔وہ کتاب جب مَیں نے ہاتھ سے چھوڑی تو تھوڑی دیر کے بعد منشی الٰہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہوا۔یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّرَوْا طَمَثَکَ وَاﷲُ یُرِیْدُاَنْ یُّرِیَکَ اِنْعَامَہٗ۔اَ لْاِنْعَامَاتِ الْمُتَوَاتِرَۃِ۔اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ اَوْلَادِیْ۔وَاﷲُ وَلِیُّکَ وَ رَبُّکَ۔فَقُلْنَا یَانَارُکُوْنِیْ بَرْدًا۔اِنَّ اﷲَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَالَّذِیْنَ ھُمْ یُحْسِنُوْنَ الْحُسْنٰی۔ترجمہ۔یہ لوگ خون حیض تجھ میں دیکھنا چاہتے ہیں یعنی ناپاکی اور پلیدی اور خباثت کی تلاش میں ہیں اور خدا چاہتا ہے کہ اپنی متواتر نعمتیں جو تیرے پر ہیں دکھلاوے۔اور خون حیض سے تجھے کیونکر مشابہت ہو اور وہ کہاں تجھ میں باقی ہے۔پاک تغیرات نے اس خون کو خوبصورت لڑکا بنا دیا اور وہ لڑکا جو اس خون سے بنا میرے ہاتھ سے پیدا ہوا۔اس لئے تو مجھ سے بمنزلہ اولاد کے ہے یعنی گو بچوں کا گوشت پوست خون حیض سے ہی پیدا ہوتا ہے۔مگر وہ خون حیض کی طرح ناپاک نہیں کہلا سکتے۔اسی طرح تو بھی انسان کی فطرتی ناپاکی سے جولازم بشریت ہے اور خون حیض سے مشابہ ہے ترقی کر گیا ہے۔اب اس پاک لڑکے میں خون حیض کی تلاش کرنا حمق ہے۔وہ تو خدا کے ہاتھ سے غلام زکی بن گیا اور اس کے لئے بمنزلہ اولاد کے ہو گیا اور خدا تیرا متولی اور تیرا پرورندہ ہے اس لئے خاص طور پر پدری مشابہت درمیان ہے جس آگ کو اس کتاب عصائے موسیٰ سے بھڑکانا چاہا ہے ہم نے اس کو بجھا دیا ہے۔خد اپرہیزگاروں کے ساتھ ہے جو نیک کاموں کو پوری خوبصورتی کے ساتھ انجام دیتے ہیں اور تقویٰ کے باریک پہلوئوں کا لحاظ رکھتے ہیں۔