مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 140
رکھی گئی اور موسوی خلافت کا سلسلہ جس نبی پر ختم ہوا یعنی مسیح پر، نہ وہ بنی اسرائیل میں سے پیدا ہوا کیونکہ اس کا کوئی اسرائیلی باپ نہ تھا اور نہ وہ موسیٰ اور یشوعا کی طرح تلوار کے ساتھ ظاہر ہوا، اور نہ وہ ایسے ملک اور وقت میں جس میں اسرائیلی سلطنت ہوتی پیدا ہوا۔بلکہ وہ رُومی سلطنت کے ایّام میں ان اسرائیلی آبادیوں میں وعظ کرتا رہا جو پیلاطوس کے علاقہ میں تھیں۔اب جبکہ پہلے مسیح نے نہ تلوار اُٹھائی اور نہ وہ بوجہ نہ ہونے باپ کے بنی اسرائیل میں سے تھا اور نہ اسرائیلی سلطنت کو اس نے اپنی آنکھ سے دیکھا۔اس لئے دوسرا مسیح جو انجیل متی ۱۷ باب آیت ۱۰و۱۱و ۱۲ کے رُو سے پہلے مسیح کے رنگ اور طریق پر آنا چاہیے تھا جیسا کہ یوحنا نبی ایلیا کے رنگ پر آیا تھا ضرور تھا کہ وہ بھی قریش میں سے نہ ہوتا۔جیسا کہ یسوع مسیح بنی اسرائیل میں سے نہیں تھا۔اور ضرور تھا کہ دوسرا مسیح اسلامی سلطنت کے اندر پیدا نہ ہوتا اور ایسی سلطنت کے ماتحت مبعوث ہوتا جو رُومی سلطنت کے مشابہ ہوتی۔سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔کیونکہ جہاں تک ہمیں علم ہے ہم جانتے ہیں کہ ہماری یہ سلطنت برطانیہ (خدا اس پر دین و دنیا میں فضل کرے) رُومی سلطنت سے نہایت درجہ مشابہ ہے اور ضرور تھا کہ دوسرا مسیح بھی تلوارکے ساتھ نہ آتا۔اور اس کی بادشاہت صرف آسمان میں ہوتی سو ایسا ہی ظہور میں آیا اور خدا نے مجھے تلوار کے ساتھ نہیں بھیجا اور نہ مجھے جہاد کا حکم دیا۔بلکہ مجھے خبر دی کہ تیرے ساتھ آشتی اور صلح پھیلے گی۔ایک درندہ بکری کے ساتھ صلح کرے گا اورایک سانپ بچوں کے ساتھ کھیلے گا۔یہ خدا کا ارادہ ہے گو لوگ تعجب کی راہ سے دیکھیں۔غرض مَیںاس لئے ظاہر نہیں ہوا کہ جنگ و جدل کا میدان گرم کروں بلکہ اس لئے ظاہر ہوا ہوں کہ پہلے مسیح کی طرح صلح اور آشتی کے دروازے کھول دوں۔اگر صلح کاری کی بنیاد درمیان نہ ہو تو پھر ہمارا سارا سلسلہ فضول ہے اور اس پر ایمان لانا بھی فضول۔حقیقت یہ ہے کہ پہلا مسیح بھی اس وقت آیا تھا۔۱؎ جب یہود میں خانہ جنگیاں کثرت سے پھیل گئی تھیں اور ان کے گھر ظلم اور تعدی ۱؎ پہلے مسیح کو جو خدا بنایا گیا یہ کوئی صحیح اور واقعی امر نہیں تھا تا دوسرے مسیح میں اس کی مشابہت تلاش کی جائے۔بلکہ انسانی غلطیوں میں سے یہ بھی ایک غلطی تھی۔اور اصل فلاسفی اس مسئلہ میںیہ ہے کہ کوئی