مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 139
کہ جیسا کہ وہ خدا کے لئے ان چار صفتوں کو پسند کرتا ہے ایسا ہی اپنے نفس کے لئے بھی یہی پسند کرے۔لہذا خدا نے سُورۃ فاتحہ میں یہی تعلیم کی تھی جس کو اس زمانہ کے مسلمان ترک کر بیٹھے ہیں۔میری رائے یہ ہے کہ دنیا میں اکثر مسلمان باستثناء قدر قلیل کے دو قسم کے ہیں۔ایک وہ علماء جو آزادی کے ملکوں میں رہ کر علانیہ جہاد کی تعلیم کرتے اور مسلمانوں کواس کے لئے اُبھارتے ہیں اور ان کے نزدیک بڑا کام دینداری کا یہی ہے کہ نوعِ انسان کو مذہب کے لئے قتل کیا جائے۔وہ اس بات کو سنتے ہی نہیں کہ خدا فرماتا ہے کہ ۱؎ یعنی دین کو جبر سے شائع نہیں کرنا چاہیے۔(۲)دوسرا فرقہ مسلمانوں کا یہ بھی پایا جاتا ہے کہ وہ خُفیہ طور پر تو اس پہلے فرقہ کے ہمرنگ ہیں مگر اسی گورنمنٹ کو خوش کرنے کے لئے تقریراً یا تحریراً ظاہرکرتے رہتے ہیں کہ ہم جہاد کے مخالف ہیں۔اُن کے امتحان کا ایک سہل طریق ہے مگر اس جگہ اس کے لکھنے کا موقع نہیں۔جس شخص کو خدا نے قوتِ کانشنس عطا کی ہے۔اور نور قلب بخشا ہے وہ ایسے لوگوں کو اس طرح پر پہچان لے گا کہ اُن کے عام تعلقات کس قسم کے لوگوں سے ہیں مگر اس جگہ ہمارا مدّعا صرف اپنا مشن بیان کرنا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ ہم ایسے جہادوں کے سخت مخالف اور نہایت سخت مخالف ہیں۔ہمارے اس الہٰی فرقہ کی مختصر طور پر لائف یہ ہے کہ خدا نے پہلی قوموں کو دنیا سے اُٹھا کر دنیا کو نیکی کا سبق دینے کے لئے ابراہیم کی نسل سے دو سلسلے شروع کئے۔ایک سلسلہ ٔموسیٰ جس کو حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے شروع کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام پر ختم کیا گیا۔دوسرا سلسلہ مثیل موسیٰ یعنی سلسلہ حضرت محمد مصطفیٰ صلے اللہ علیہ وسلم جو خدا کے اس وعدہ کے موافق ہے جو توریت استثناء باب۱۸ آیت۱۸ میں کیا گیا تھا۔یہ سلسلہ موسویہ کی ایک پوری نقل ہے جو مثیل موسیٰ سے شروع ہو کر مثیل مسیح تک ختم ہوا۔اور عجیب تر یہ کہ جو مدت خدا نے موسیٰ سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السّلام تک رکھی تھی یعنی چودہ سو برس۔اسی مدت کی مانند اس سلسلہ کی مدت بھی ۱ البقرہ:۲۵۷