مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 63

مجموعہ اشتہارات ۶۳ جلد دوم نہیں کرتا کہ اس خیر خواہی کی پاداش میں میرا کوئی لڑکا کسی معزز عہدہ پر ہو جائے۔یہ میرا ایک عقیدہ ہے جو سچائی اور شکر گزاری کی پابندی سے رکھتا ہوں نہ کسی اور غرض سے میری رائے قدیم سے گورنمنٹ کی نسبت یہی ہے جو میں نے بیان کی۔سوتم خدا تعالیٰ سے ڈرو۔اور ناحق کی تہمتیں مت لگاؤ که دنیوی زندگی معہ اپنے تمام لوازم کے بہت جلد ختم ہو جائے گی۔اور جلد تر ایک تبدیلی ہو کر دوسرے عالم میں پہنچائے جاؤ گے اور اُس بچے حاکم کی جناب میں پیش کئے جاؤ گے جس کی دلوں اور جانوں پر حکومت ہے سوچو اور خوب سوچو کہ عنقریب اس ذات سے معاملہ ہے جو دلوں کے مخفی در مخفی بھیدوں کو جانتا ہے۔وَ لَمَقْتُ اللهِ أَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ خدا تعالیٰ ہدایت دے اور وہ باتیں الہام کرے جن سے وہ راضی ہو جائے۔آمین بالآخر میں اپنے دوستوں کو آگاہ کرتا ہوں کہ میں نے محض اللہ مولوی محمد حسین صاحب کے مواعید پر نظر کر کے اپنے مخلصوں کے دستخطوں کی اور درخواست کے بھیجنے کی کارروائی سے اپنے تیں الگ کر لیا ہے۔آپ صاحبان اس سے رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ ہمارے کام خدا تعالیٰ کے لیے ہیں اور چاہیے کہ آپ لوگ ان کی منشاء کے موافق اس کا رروائی سے الگ ہو جاویں۔کیونکہ ان کی طرف سے یہی شرط ہے کہ ہم بالکل اس کام سے الگ ہو جاویں اور اگر اسی طور سے آنحضرت صلعم کی حفظ عزت کے لیے احسن طور پر قانونی وسائل پیدا ہو جاویں تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ اس کے مخالف کوئی حرکت کریں اور کام کے حارج ہوں۔آپ لوگوں کو خدا تعالیٰ بیشک سعی اور نیت کا اجر دے گا۔وَاللَّهُ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ۔راق خاکسار غلام احمد قادیانی ۲۱ اکتوبر ۱۸۹۵ء نوٹ۔شرط یہ ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب ماہ بماہ اپنی کا روائی شائع کرتے رہیں۔منہ