مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 56

مجموعہ اشتہارات جلد دوم دیکھیں بندہ اس کام کو کیونکر بجا لاتا ہے۔آپ علیحدہ ہو جائیں۔پھر اس کام کا حسن انجام ملاحظہ فرمائیں۔یہ ان کی عبارت ہے جس کو انہوں نے بڑے پر زور وعدہ کے ساتھ شائع کیا ہے بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ یہ بندہ ایسے کام پہلے کر چکا ہے اور اس کی قومی خدمات گورنمنٹ اور قوم میں مسلم ہیں۔اور سپریم گورنمنٹ اور لوکل گورنمنٹوں تک عزت و اعتبار کے ساتھ رسائی ہے۔اور اس کی گذارش مود با نه کو گورنمنٹ عزت و اعتبار کی نگاہ سے دیکھتی اور سُنتی ہے۔اس تمام تحریر پر میں نے غور کی اور ایک عمیق فکر کے بعد میرے دل نے یہی فتویٰ دیا کہ چونکہ ہماری جماعت ابھی بہت تھوڑی ہے اور اکثر لوگ ان مولوی صاحبوں کے ایسے مسخر ہیں کہ ہماری سیدھی بات بھی ان کی نظر میں الٹی معلوم ہوتی ہے اور ہمارا قدم در میان آنے سے ایک ایسی کراہت دلوں میں پیدا ہو جاتی ہے کہ اگر وہ کام کرنا بھی ہو تب بھی ہرگز نہ کریں۔اس لیے اگر یہ کام ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو جس کی تجویزات سے قوم کو کراہت نہ ہو تو ہمارا مدعا جو خدمت دین متین ہے بہر حال حاصل ہے اور تازہ تجربہ نے اس بات کی طرف اور بھی توجہ دلائی۔کیونکہ میں نے اس کام کے لیے کسی قدر سخت الفاظ سے طبیعتوں کو جوش بھی دلایا اور کسی قدر درشتی بھی اپنے خط اور کارڈ میں جو اس بارہ میں چھاپا گیا استعمال کی ،مگر اکثر لوگوں نے مجھ سے اور میرے کام سے ایسی نفرت ظاہر کی کہ بجز انکار یا گالیوں کے اور کچھ بھی جواب نہیں دیا۔ہاں میں اس وقت شکر کے ساتھ مولوی تلطف حسین صاحب دہلوی اور مولوی ابو محمد عبد الحق صاحب دہلوی مصنف تفسیر حقانی اور شیخ حاجی عبد الرحیم صاحب انبالوی شافعی المذہب اور مولوی محمد بشیر صاحب بھو پالوی اور شیخ حسین عرب صاحب یمانی غم بھوپالوی کا ذکر کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنی سعادت فطرت اور جوش حمیت اسلام اور محبت حضرت خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم سے نقشہ مسلکہ درخواست پر اپنے اپنے دستخط کر کے میرے پاس بھیج دیئے۔سوئیں اُن کا تہہ دل سے شکر کرتا ہوں کہ انہوں نے باوجود بعض مسائل کی مخالفت کے پھر میرے پر ثابت کیا کہ وہ درحقیقت اللہ جل شانه اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غیرت رکھتے ہیں۔خدا تعالیٰ اُن کو اس کا اجر بخشے اور ان کے اس عمل کو قبول فرما دے۔ایسا ہی مولوی امیر حسین صاحب متوطن بھیں ضلع جہلم نے وعدہ کیا اور لکھا کہ