مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 586
مجموعہ اشتہارات ۵۸۶ جلد دوم اب تک اس کو یہ خبری نہیں کہ عجب کا صلہ لام بھی آیا کرتا ہے۔کیا اس قدر جہالت کہ مشکوۃ کی کتاب الایمان کی حدیث کی بھی خبر نہیں کیا یہ عزت کا موجب ہے اور اس سے مولویت کے دامن کو کوئی ذلت کا دھبہ نہیں لگتا؟ پھر جبکہ یہ امر پبلک پر عام طور پر کھل گیا اور ہزار ہا اہل علم کو معلوم ہو گیا کہ محمد حسین نہ صرف علم صرف و نحو سے ناواقف ہے بلکہ جو کچھ احادیث کے الفاظ ہیں ان سے بھی بے خبر ہے تو کیا یہ شہرت اس کی عزت کا موجب ہوئی یا اس کی ذلت کا؟ پھر تیسرا پہلو ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا یہ ہے کہ مسٹر جے۔ایم ڈوئی صاحب بہادر سابق ڈپٹی کمشنر و ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور نے اپنے حکم ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء میں مولوی محمد حسین سے اس اقرار پر دستخط کرائے کہ وہ آئندہ مجھے دجال اور کافر اور کاذب نہیں کہے گا اور قادیان کو چھوٹے کاف سے نہیں لکھے گا اور اس نے عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر اقرار کیا کہ آیندہ وہ مجھے کسی مجلس میں کا فرنہیں کہے گا اور نہ میرا نام دقبال رکھے گا اور نہ لوگوں میں مجھے جھوٹا اور کاذب کر کے مشہور کرے گا۔اب دیکھو کہ اس اقرار کے بعد وہ استفتاء اس کا کہاں گیا جس کو اس نے بنارس تک قدم فرسائی کر کے طیار کیا تھا۔اگر وہ اس فتوی دینے میں راستی پر ہوتا تو اس کو حاکم کے روبرو یہ جواب دینا چاہیے تھا کہ میرے نزدیک بے شک یہ کافر ہے اس لئے میں اس کو کافر کہتا ہوں اور دقبال بھی ہے اس لئے میں اس کا نام دجال رکھتا ہوں اور یہ شخص واقعی جھوٹا ہے اس لئے میں اس کو جھوٹا کہتا ہوں بالخصوص جس حالت میں خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میں اب تک اور اخیر زندگی تک انہی عقائد پر قائم ہوں جن کو محمد حسین نے کلمات کفر قرار دیا ہے تو پھر یہ کس قسم کی تو دیانت ہے کہ اس نے حاکم کے خوف سے اپنے تمام فتووں کو برباد کر لیا اور حکام کے سامنے اقرار کر دیا کہ میں آئیندہ ان کو کا فرنہیں کہوں گا اور نہ اُن کا نام دجال اور کاذب رکھوں گا۔پس سوچنے کے لائق ہے کہ اس سے زیادہ اور کیا ذلت ہوگی کہ اس شخص نے اپنی عمارت کو اپنے ہاتھوں سے گرایا۔اگر اس عمارت کی تقویٰ پر بنیاد ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ محمد حسین اپنی قدیم عادت سے باز آ جاتا۔ہاں یہ سچ ہے کہ اس نوٹس پر میں نے بھی دستخط کئے ہیں۔مگر اس دستخط سے خدا اور منصفوں کے نزدیک