مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 585
مجموعہ اشتہارات ۵۸۵ جلد دوم مجھے اس بات پر ملامت کرتا ہے کہ میں نے زمانہ کی گردش سے بازی کو کیوں ہار دیا۔وہ کب تک مجھے ایسی بیہوہ ملامت کرے گا۔کیا وہ نہیں سمجھتا کہ ہمیشہ زمانہ موافق نہیں رہتا اور تقدیر بد کے آگے تدبیر پیش نہیں جاتی پس میرا اس میں کیا قصور ہے کہ زمانہ کی گردش سے میں ناکام رہا۔اب دیکھو کہ اس شعر میں بھی عجب کا صلہ کام آیا ہے۔اور اسی حماسہ میں اسی قسم کا ایک اور عَجِبْتُ لِعَبْدَانِ هَجَوُنِي سَفَاهَةً ان اصْطَبَحُوا مِنْ شَائِهِمْ وَ تَقَبَّلُوا یعنی مجھے تعجب آیا کہ کنیزک زادوں نے سراسر حماقت سے میری ہجو کی اور اس ہجو کا سبب ان کی صبح کی شراب اور دو پہر کی شراب تھی۔اب دیکھو اس شعر میں بھی عجب کا صلہ کام آیا ہے اور اگر یہ کہو کہ یہ تو اُن شاعروں کے شعر ہیں جو جاہلیت کے زمانہ میں گذرے ہیں تو وہ کافر ہیں۔ہم اُن کے کلام کو کب مانتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ باعث اپنے کفر کے جاہل تھے نہ باعث اپنی زبان کے بلکہ زبان کی رو سے تو وہ امام مانے گئے ہیں۔یہاں تک کہ قرآن شریف کے محاورات کی تائید میں ان کے شعر تفاسیر میں بطور حجت پیش کئے جاتے ہیں اور اس سے انکار کرنا ایسی جہالت ہے کہ کوئی اہل علم اس کو قبول نہیں کرے گا۔ماسوا اس کے یہ محاورہ صرف گذشتہ زمانہ کے اشعار میں نہیں ہے بلکہ ہمارے سید و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے بھی اس محارہ کی تائید ہوتی ہے۔مثلاً ذرہ مشکوۃ کو کھولو اور کتاب الایمان کے صفحہ ۳ میں اُس حدیث کو پڑھو جو اسلام کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے جس کو متفق علیہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے عَجِبْنَا لَهُ يَسْئَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ یعنی ہم نے اس شخص کی حالت سے تعجب کیا کہ پوچھتا بھی ہے اور پھر مانتا بھی جاتا ہے۔اب دیکھو کہ اس حدیث شریف میں بھی عَجِبُنَا کا صلہ لام ہی لکھا ہے اور عَجِبُنَا منْهُ نہیں لکھا بلکہ عَجِبْنَا لَهُ کہا ہے۔اب کوئی مولوی صاحب انصافاً فرما ئیں کہ ایک شخص جو اپنے تئیں مولوی کہلاتا ہے بلکہ دوسرے مولویوں کا سرگروہ اور ایڈوکیٹ اپنے تئیں قرار دیتا ہے کیا اس کے لئے یہ ذلت نہیں ہے کہ۔