مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 543
مجموعہ اشتہارات ۵۴۳ جلد دوم خالص مخلص حبّى فى الله مولوی حکیم نور الدین صاحب کے ہیں جنہوں نے نہ صرف مالی امداد کی بلکہ دنیا کے تمام تعلقات سے دامن جھاڑ کر اور فقیروں کا جامہ پہن کر اور اپنے وطن سے ہجرت کر کے قادیان میں موت کے دن تک آ بیٹھے اور ہر وقت حاضر ہیں۔اگر میں چاہوں تو مشرق میں بھیج دوں یا مغرب میں۔میرے نزدیک یہ وہ لوگ ہیں جن کی نسب براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے۔اَصْحَابُ الصُّفَّةِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا أَصْحَابُ الصُّفَّةِ اور حضرت ممدوح سے دوسرے درجہ پر حتی فی الله مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ہیں۔اور ان کو تو پہلے ہی خدا تعالیٰ نے دنیا کے مناصب اور جاہ طلبی کی مناسبت نہیں دی مگر اب وہ بالکل دنیوی خیالات کو بھی استعفاء دے کر اس دروازہ پر بیٹھے ہیں اور دن رات اپنے دماغ سے فوق الطاقت کام لے کر خدمت دین کر رہے ہیں اور جمعہ کی نماز میں بہت سے حقائق معارف قرآن شریف بیان کرتے اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔اور مولوی حکیم نور الدین صاحب کے ہم شہر حکیم فضل دین ہیں اور وہ بھی قریباً اسی جگہ رہتے اور خدمات میں مشغول ہیں۔اور ایک مخلص دوست ہمارے ڈاکٹر بوڑے خان صاحب دُنیا سے گزر گئے مگر جائے شکر ہے کہ چار اور مخلص ڈاکٹر یعنی خلیفہ رشیدالدین صاحب لاہوری اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کلانوری اور ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب اور ڈاکٹر عبد الحکیم خان صاحب ہماری جماعت میں موجود ہیں۔ایسا ہی نہایت با اخلاص بعض وہ مخلص ہیں جنہوں نے اس جگہ بودو باش اختیار کی ہے۔منجملہ ان کے مرزا خدا بخش صاحب بھی ہیں۔اور نیز صاحبزادہ سراج الحق صاحب سرساوی اپنے وطن سر ساوہ سے ہجرت کر کے قادیان میں آگئے ہیں۔اور کئی اور صاحب ہیں۔اور ہم دعا کرتے ہیں کہ ان تمام صاحبوں کے لئے یہ ہجرتیں مبارک ہوں۔اور مولوی حکیم نورالدین صاحب تو ہمارے اس سلسلہ کے ایک شمع روشن ہیں۔ہر روز قرآن شریف اور حدیث کا درس دیتے ہیں اور اس قدر معارف حقائق قرآن شریف بیان کرتے ہیں کہ اگر یہ خدا کی مدد نہیں تو اور کیا ہے۔حضرت مولوی صاحب اور حتی فِی اللہ مولوی عبدالکریم دونوں دلی صدق سے چاہتے ہیں کہ قادیان میں سفر نصیبین کے خرچ کے لئے بھی جس کا ذکر تیسری شاخ میں آئے گا۔اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب نے ایک آدمی کے جانے کا خرچ اپنے ذمہ لے لیا ہے۔منہ