مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 542
مجموعہ اشتہارات ۵۴۲ جلد دوم کا احسان ہے کہ باوجودیکہ کوئی احسن انتظام اس لنگر خانہ کے چلانے کے لیے اب تک نہیں تھا۔مگر کوئی ابتلا پیش نہ آیا اور باوصیکہ لنگر خانہ کے تمام متعلقات کا خرچ جس کی تفصیل لکھنے کی ضرورت نہیں اکثر سات سو روپیہ ماہوار تک یا کبھی اس سے بھی بڑھ کر اور کبھی دو ہزار ماہوار تک بھی پہنچ گیا مگر خدا تعالیٰ کی پوشیدہ مدد کا ہاتھ شامل حال رہا کہ کوئی امتحان پیش نہ آیا۔اب یہ صورت ہے کہ باعث ایام قحط خرج بہت بڑھ گیا ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ مثلاً ہم جو اس سے پہلے دوسور و پیہ ماہواری یا اڑھائی سور و پیہ یا اس سے کم کا لنگر خانہ کے لئے آٹا منگوایا کرتے تھے۔اب شاید پانسوروپیہ تک الت نوبت پہنچے اور میں دیکھتا ہوں کہ اس کے لئے ہمارے پاس کچھ بھی سامان نہیں اور اسی خرچ کے قریب قریب لکڑی اور گوشت اور روغن اور تیل وغیرہ کا خرچ ہے۔میرے نزدیک یہ انتظام ہمارے اس تمام سلسلہ کی بنیاد ہے۔اور دوسری تمام باتیں اس کے بعد ہیں کیونکہ فاقہ اُٹھانے والے معارف اور حقائق بھی سُن نہیں سکتے۔سوسب سے اول اس انتظام کے لئے ہماری جماعت کو متوجہ ہونا چاہیے۔اور یہ خیال نہ کریں کہ اس راہ میں روپیہ خرچ کرنے سے ہمارا کچھ نقصان ہے کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے جس کے لئے وہ خرچ کریں گے۔اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ خسارہ کی حالت میں وہ لوگ ہیں جو ریا کاری کے موقعوں میں تو صد ہا روپیہ خرچ کریں اور خدا کی راہ میں پیش و پس سوچیں۔شرم کی بات ہے کہ کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر پھر اپنی خست اور بخل کو نہ چھوڑے۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک اہل اللہ کے گروہ کو اپنی ابتدائی حالت میں چندوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کئی مرتبہ صحابہ پر چندے لگائے جن میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر ر ہے۔سو مردانہ ہمت سے امداد کے لئے بلا توقف قدم اٹھانا چاہیے۔ہر ایک اپنی مقدرت کے موافق اس لنگر خانہ کے لئے مدد کرے۔میں چاہتا ہوں کہ اگر ممکن ہو تو ایک ایسا انتظام ہو کہ ہم لنگر خانہ کے سر درد سے فارغ ہو کر اپنے کام میں با فراغت لگے رہیں اور ہمارے اوقات میں کچھ حرج نہ ہو جو ہمیں مدد دیتے ہیں۔آخر وہ خدا کی مدددیکھیں گے۔میں اس بات کے لکھنے سے رہ نہیں سکتا کہ اس نصرت اور جانفشانی میں اول درجہ پر ہمارے