مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 520
مجموعہ اشتہارات ۵۲۰ جلد دوم مسل مقدمہ میں شامل کیا گیا ہے۔گو وہ مذہبی مباحثات کی طرز کو خیال کر کے ایسا ہر گز نہیں ہے جیسا کہ سمجھا گیا ہے تاہم یہ بات ثابت شدہ ہے کہ مجھے اُس اخبار سے کچھ بھی تعلق نہیں۔چنانچہ اخبار الحکم کے پرچہ ۸ دسمبر ۱۸۹۸ء اور ۱۳ / دسمبر ۱۸۹۸ء اور ۱۰ جنوری ۱۸۹۹ء میں خود اس اخبار کے مالک شیخ یعقوب علی نے اس کی بخوبی تصریح کردی ہے۔میری نیک نیتی اس سے ظاہر ہے کہ قریباً ڈیڑھ برس کے عرصہ تک محمد حسین نے نہایت سخت اور گندے الفاظ کے ساتھ مجھے دکھ دیا۔پہلے ایسے ناپاک اشتہار محمد بخش جعفر زٹلی کے نام پر شائع کئے اور پھر نقل کے طور پر اُن کو اپنی اشاعۃ السنہ میں لکھا اور کئی دوسرے لوگوں سے بھی یہ کام کرایا مگر میں چپ رہا اور اپنی جماعت کو بھی ایسے گندے الفاظ بالمقابل بیان کرنے سے روک دیا۔یہ واقعی اور سچی بات ہے۔خدا کے اختیار میں ہے کہ عدالت کو اس تفتیش کی طرف توجہ دے جب میری جماعت ایسی گالیوں سے نہایت درجہ دردمند ہوئی اور ایسے اشتہار لاہور کی گلی کوچوں اور مسجدوں میں محمد حسین نے چسپاں کر دیئے تو میں نے اپنی جماعت کو یہ صلاح دی کہ وہ بحضور نواب گفٹینٹ لے گورنر بہادر بالقا بہ اس بارے میں میموریل بھیجیں۔چنانچہ میموریل بھیجا گیا۔جس کے چند پرچے میرے پاس موجود ہیں۔پھر جب اس ذریعہ سے اس فتنہ کا انسداد نہ ہوا تو ایک اور میموریل پندرہ ہزار یا شاید سولہ ہزار معزز لوگوں کے دستخط کرا کر بحضور وائسرائے بالقابہ اسی غرض کے حصول کے لئے روانہ کیا گیا۔اس کے چند پرچے بھی موجود ہیں مگر اس کا بھی کوئی جواب نہ آیا۔تب گندی گالیوں کے دینے میں اور بھی محمد حسین نے نہایت بے باکی سے قدم آگے رکھا، چنانچہ ان گالیوں کا نمونہ محمد بخش جعفر زٹلی کے اس اشتہار سے ظاہر ہوتا ہے جو اس نے اار جون ۱۸۹۷ء میں شائع کیا ہے۔اس اشتہار میں اس کی عبارت جو دراصل محمد حسین کی عبارت ہے، یہ ہے ” مرزا عیسائیوں کا کوڑا اور گندگی اٹھانے کے لئے تیار اور راضی ہے اور اپنا منہ ان کی جوتیوں پر ملنے کے لئے اس نے برٹش گورنمنٹ کو خدا کا درجہ دے یا ہے۔اس خرد قبال نے حضرت سلطان المعظم یعنی سلطان رُوم کی لے نقل مطابق اصل ہے (مرتب) وو