مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 519 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 519

مجموعہ اشتہارات ۵۱۹ جلد دوم میں اس بات کا ثبوت دیتا ہوں کہ میری کا رروائی محمد حسین کے مقابل پر اخیر تک سلامت روشنی کے ساتھ رہی ہے اور میں نے بہت سے گندے اشتہار دیکھ کر جو اس کی تعلیم سے لکھے گئے تھے۔جن کا بہت سا حصہ خود اس نے اپنی اشاعۃ السنہ میں نقل کیا ہے وہ صبر کیا ہے جو دنیا داروں کی فطرت سے ایسا صبر ہونا غیر ممکن ہے محمد حسین نے میرے ننگ و ناموس پر نہایت قابل شرم کمینگی کے ساتھ اور سراسر جھوٹ سے حملہ کیا ہے اور میری بیوی کی نسبت محض افترا سے نہایت ناپاک کلمے لکھے ہیں اور مجھے ذلیل کرنے کے لئے بار بار یہ کلمات شائع کئے کہ یہ شخص لعنتی اور کتے کا بچہ ہے اور دوسو جو تہ اس کے سر پر لگانا چاہیے اور اس کو قتل کر دینا ثواب کی بات ہے۔لیکن کون ثابت کر سکتا ہے کہ کبھی میں نے اس کے یا اس کے گروہ کی نسبت ایسے الفاظ استعمال کئے۔میں ہمیشہ ایسے الفاظ استعمال کرتا رہا جو ایک شریف انسان کو تہذیب کے لحاظ سے کرنے چاہیں۔ہاں جیسا کہ مذہبی مباحثات میں باوجود تمام تر نیک نیتی اور نرمی اور تہذیب کے ایسی صورتیں پیش آ جایا کرتی ہیں کہ ایک فریق اپنے فریق مخالف کی نسبت ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے۔جو عین محل پر چسپاں ہوتے ہیں۔اس مہذبانہ طریق سے میں انکار نہیں کر سکتا۔مباحثات میں ضرورت کے وقت بہت سے کلمات ایسے بھی استعمال ہوتے ہیں جو فریق مخالف کو طبعا نا گوار معلوم ہوتے ہیں مگرمحل پر چسپاں اور واقعی ہوتے ہیں مثلاً جو شخص اپنے مباحثات میں عمد اخیانت کرتا ہے یا دانستہ روایتوں کے حوالہ میں جھوٹ بولتا ہے اس کو نیک نیتی اور اظہار حق کی وجہ سے کہنا پڑتا ہے کہ تم نے طریق خیانت یا جھوٹ کو اختیار کیا ہے اور ایسا بیان کرنا نرمی اور تہذیب کے برخلاف نہیں ہوتا بلکہ اس حد تک جو سچائی اور نیک نیتی کا التزام کیا گیا ہو۔حق کے ظاہر کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ایسے طریق کو یورپ کے ممتاز محققوں نے بھی جو طبعا تہذیب اور نرمی کے اعلیٰ اصولوں کے پابند ہوتے ہیں اختیار کیا ہے۔یہاں تک کہ سر میور سابق لفٹنٹ گورنر ممالک مغربی و شمالی نے اپنی کتاب لائف آف محمد میں اس مذہبی تحریر میں ایسے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں کہ میں ایسے الفاظ کا ذکر بھی سخت نا مناسب سمجھتا ہوں۔اور میرے ایک مُرید نے جو محمد حسین کی نسبت ایک مضمون اخبار الحکم میں لکھا ہے جو