مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 509 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 509

۵۰۹ جلد دوم مجموعہ اشتہارات دھو کہ وہ آدمی ہے۔کیونکہ اس رجوع کے بعد پھر اس نے وہی اعتقاد انکار مہدی گورنمنٹ پر ظاہر کیا اور ثابت ہوا کہ یہ تمام تحریریں گورنمنٹ انگریزی کو دھوکہ دینے کے لئے اس نے شائع کی ہیں۔اس خیال سے کہ گورنمنٹ ایسے لوگوں کو خطرناک سمجھتی ہے جو ایسے مہدی کے آنے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔پس بلا شبہ اس نے یہ سخت فریب کی کارروائی کی ہے اور یہ اُن شریف اور نیک طینت انسانوں کا کام نہیں ہے۔جن کا ظاہر و باطن ایک ہوتا ہے۔ہاں ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ بلاشبہ سچا اور صحیح اعتقاد یہی ہے کہ ایسے مہدی کے آنے کی نسبت کوئی حدیث صحت کو نہیں پہنچتی اور جس قدر صحاح ستہ میں حدیثیں لکھی گئی ہیں ان میں سے کوئی بھی جرح سے خالی نہیں۔اور اگر جاہل اور بے وقوف اور خائن اور نام کے مولوی جو دیانت اور ایمانداری اور راست گوئی سے خالی ہیں۔ایسی مجروح اور مردود حدیثوں کے رڈ کرنے والے اور ایسے مہدی کے منکر کی نسبت کا فر اور دجال اور کذاب اور مفتری ہونے کا فتویٰ دیں جیسا کہ نذیر حسین اور عبد الجبار اور رشید احمد اور عبد الحق وغیرہ نے فتویٰ دیا۔تو یہ فتویٰ محض بد دیانتی کی راہ سے ہے۔لیکن محمد حسین نے جس پیمانہ سے ہمیں ناپ کر دیا تھا۔خدا نے وہی پیمانہ اس کی ذلت کے لئے اس کے آگے رکھا تا الہام جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا کامل طور پر پورا ہو جائے۔غرض محمد حسین کو صرف یہی سزا نہیں ملی کہ اس کے دوستوں نے ہی اس کا نام کافر اور دجال رکھا بلکہ جس تعدی اور زیادتی کے ساتھ میری نسبت اس نے فتوے دلائے تھے۔اسی طرح فتوے دینے والوں نے اس کے ساتھ بھی اپنے فتووں میں تعدی اور زیادتی کی تا دونوں پہلو سے مثل کی شرط پوری ہو جائے جو الہام جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا میں پائی جاتی تھی۔اب ان مولویوں کے لئے جنہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ مہدی معہود کا انکار کرنے والا کافر اور دقبال اور مفتری اور دائرہ اسلام کے خارج ہو جاتا ہے۔بہتر طریق یہ ہے کہ ایک جلسہ کر کے اس جلسہ میں محمد حسین کو طلب کریں۔پھر اگر وہ صاف طور پر اقرار کرے کہ وہ بھی اس خونی مہدی کے آنے کا منتظر ہے جو اسلام کو تلوار کے ذریعہ سے پھیلائے گا تو اس کی دستخطی تحریر لے کر چھپوا دیں اور یاد رکھیں کہ وہ ہر گزایسی تحریر نہیں دے گا اگر چہ یہ لوگ اس کو ذبح کر دیں کیونکہ یہ اس کے دنیوی مقاصد کے برخلاف ہے۔اور اگر وہ ایسا کرے تو پھر گورنمنٹ کو کیا منہ دکھاوے۔ابھی تو وہ لکھ چکا