مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 494
مجموعہ اشتہارات ۴۹۴ جلد دوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَالصَّلَوةُ وَالسَّلَام عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اِستِـ فتاء کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع کہ ایک شخص مہدی موعود کے آنے سے جو آخری زمانہ میں آئے گا۔اور بطور ظاہر و باطن خلیفہ برحق ہوگا۔اور بنی فاطمہ میں سے ہوگا۔جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے۔قطعاً انکار کرتا ہے اور اس جمہوری عقیدہ کو کہ جس پر تمام اہل سنت دلی یقین رکھتے ہیں سراسر لغو اور بیہودہ سمجھتا ہے اور ایسا عقیدہ رکھنا ایک قسم کی ضلالت اور الحاد خیال کرتا ہے۔کیا ہم اس کو اہل سنت میں سے اور راہِ راست پر سمجھ سکتے ہیں یا وہ کذاب اور اجماع کا چھوڑنے والا اور ملحد اور دجال ہے۔بَيِّنُوا تُوجَرُوا - المرقوم ۲۹ دسمبر ۱۸۹۸ء مطابق ۱۵رشعبان المبارک ۱۳۱۶ھ السائل المعتصم باللہ الا حد مرزا غلام احمد عافاه الله واید الجـ ـــــــواب (1) جو شخص عقیدہ ثابتہ مسلمہ اہل سنت و جماعت سے خلاف کرے تو وہ صریح اور بے شک اس آیت کریمہ کے وعید کا مستحق ہے۔قال عز من قال و من يشاقق الرسل من بعد ما تبين له الهدى ويَتَّبِعُ غير سبيل المؤمنين نوله ما تولّى و نصله جهنم وساءت مصيرا۔قال صلى الله عليه وسلم من فارق الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الاسلام من