مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 490 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 490

مجموعہ اشتہارات ۴۹۰ جلد دوم ٹھہرانے کے لئے ایک فتویٰ لکھا تھا اور بیان کیا تھا کہ یہ شخص مہدی موعود کے آنے سے اور اس کی لڑائیوں سے منکر ہے لیکن جب ان دنوں میں محمد حسین کو گورنمنٹ سے زمین لینے کی ضرورت پیش آئی تو اُس نے پوشیدہ طور پر ۱۴ راکتو بر ۱۸۹۸ء کو انگریزی میں ایک فہرست شائع کی جس میں اس نے گورنمنٹ کو اپنا یہ احسان جتلایا ہے کہ میں اُس مہدی موعود کو نہیں مانتا جس کے مسلمان منتظر ہیں اور وہ تمام حدیثیں جھوٹی ہیں جن میں اس کے آنے کی خبر ہے اور اس کی بدقسمتی سے اس انگریزی فہرست کی مسلمانوں کو اطلاع ہو گئی اور لوگوں نے بڑا تعجب کیا کہ یہ کیسا منافق ہے کہ اپنی قوم کے آگے مہدی موعود کے آنے کے بارے میں اپنا اعتقادظاہر کرتا ہے اور گورنمنٹ کو یہ سُنا تا ہے کہ میں اس اعتقاد کا مخالف ہوں۔تب میں نے اس کے بارے میں استفتاء لکھا اور فتویٰ لینے کے لئے پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں کے سامنے پیش کیا۔تب مولویوں اور نذیر حسین اُس کے اُستاد نے بھی وہ استفتاء پڑھ کر اُسی طرح محمد حسین کو کافر اور دجال ٹھیرایا جیسا کہ مجھے ٹھیرایا تھا اور اسی طرح ذلت کے الفاظ اس کی نسبت لکھے جیسا کہ محمد حسین نے میری نسبت لکھے تھے۔سو وہ اسی طرح ذلیل کیا گیا جیسا کہ اس نے جھوٹے فتووں سے مجھے ذلیل کیا تھا۔سو اس طرح یہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔یہ سچ ہے کہ میں ایسے خونی مہدی کو نہیں مانتا کہ جو تلوار سے لوگوں کو اسلام میں داخل کرنا چاہے گا اور نہ ایسے مسیح کے آسمان سے اتر نے کا میں قائل ہوں جو ناحق اس خونریزی میں شریک ہوگا۔اور میں نے دلائل قویہ سے ثابت کر دیا ہے کہ یہ اعتقادخونی مہدی اور ایسے مسیح کے آسمان سے اُترنے کا سراسر جھوٹ اور لغو اور بے اصل ہے اور قرآن اور حدیث سے سراسر مخالف ہے۔اب ہر ایک سوچ سکتا ہے کہ اس منافقانہ کارروائی سے جو محمد حسین گورنمنٹ کو تو کچھ کہتا رہا اور پوشیدہ طور پر لوگوں کو کچھ کہتا رہا۔کامل درجہ پر اس کی ذلت ہوگئی ہے اور مولویوں کی طرف سے وہ بُرے خطاب بھی اس کو مل گئے ہیں جو سراسر ظلم سے اس نے مجھے دیئے تھے یعنی