مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 463 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 463

مجموعہ اشتہارات ۴۶۳ جلد دوم تھے۔خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا کر آخر کا ر خاک کشمیر جنت نظیر میں انتقال فرمایا اور سرینگر خانیار کے محلہ میں باعز از تمام دفن کئے گئے۔آپ کی قبر بہت مشہور ہے يُزَارُ وَيُتَبَرَّكُ بِهِ۔ایسا ہی خدا تعالیٰ نے ہمارے سید و مولی نبی آخر الزمان کو جو سید المتقین تھے انواع اقسام کی تائیدات سے مظفر اور بقیہ حاشیہ کی غلط بیانی سے یوز آسف نبیلے کے نام سے مشہور ہو گئے۔اس واقعہ کی تائید وہ انجیل بھی کرتی ہے جو حال میں محبت سے برآمد ہوئی ہے۔یہ انجیل بڑی کوشش سے لندن سے ملی ہے۔ہمارے مخلص دوست شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر قریباً تین ماہ تک لندن میں رہے اور اس انجیل کو تلاش کرتے رہے۔آخر ایک جگہ سے میئر آ گئی۔یہ انجیل بدھ مذہب کی ایک پرانی کتاب کا گویا ایک حصہ ہے۔بدھ مذہب کی کتابوں سے یہ شہادت ملتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ملک ہند میں آئے اور ایک مدت تک مختلف قوموں کو وعظ کرتے رہے۔اور بدھ مذہب کی کتابوں میں جو اُن کے ان ملکوں میں آنے کا ذکر لکھا گیا ہے اُس کا وہ سبب نہیں جو لا نے بیان کرتے ہیں یعنی یہ کہ انہوں نے گوتم بدھ کی تعلیم استفادہ کے طور پر پائی تھی ایسا کہنا ایک شرارت ہے ، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو واقعہ صلیب سے نجات بخشی تو انہوں نے بعد اس کے اس ملک میں رہنا قرین مصلحت نہ سمجھا اور جس طرح قریش کے انتہائی درجہ کے ظلم کے وقت یعنی جب کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ملک سے ہجرت فرمائی تھی۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام نے یہودیوں کے انتہائی ظلم کے وقت یعنی قتل کے ارادہ کے وقت ہجرت فرمائی۔اے نوٹ۔ایک نادان مسلمان نے اپنے دل سے ہی یہ بات پیش کی ہے کہ شاید یوز آسف سے زوجہ آ صف مراد ہو جو سلیمان کا وزیر تھا۔مگر اُس جاہل کو یہ خیال نہیں آیا کہ زوجہ آصف نبی نہیں تھی اور اُس کو شہزادہ نہیں کہہ سکتے یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ دونوں مذکر نام ہیں۔مؤنث کے لئے اگر وہ یہ صفات بھی رکھتی ہوں بیہ اور شہزادی کہا جائے گا۔نہ نبی اور شہزادہ۔اس سادہ لوح نے یہ بھی خیال نہیں کیا کہ اُنہیں سو کی مدت حضرت عیسی کے زمانہ سے ہی مطابق آتی ہے۔سلیمان تو حضرت عیسی سے کئی سو برس پہلے تھا۔ماسوا اس کے اس نبی کی قبر کو جو سری نگر میں واقع ہے بعض یوز آسف کے نام سے پکارتے ہیں مگر اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے۔ہمارے مخلص مولوی عبد اللہ صاحب کشمیری نے جب سری نگر میں اس مزار کی نسبت تفتیش کرنا شروع کیا تو بعض لوگوں نے یوز آسف کا نام سُن کر کہا کہ ہم میں وہ قبر عیسی صاحب کی قبر مشہور ہے۔چنانچہ کئی لوگوں نے یہی گواہی دی جواب تک سری نگر میں زندہ موجود ہیں جس کو شک ہو وہ خود کشمیر میں جا کر کئی لاکھ انسان سے دریافت کر لے اب اس کے بعد انکار بے حیائی ہے۔منہ