مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 462
مجموعہ اشتہارات ۴۶۲ جلد دوم اولوا العزم نبی ایسا نہیں گذرا جس نے قوم کی ایڈا کی وجہ سے ہجرت نہ کی ہو۔حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی تین برس کی تبلیغ کے بعد صلیبی فتنہ سے نجات پا کر ہندوستان کی طرف ہجرت کی اور یہودیوں کی دوسری قوموں کو جو بابل کے تفرقہ کے زمانہ سے ہندوستان اور کشمیر اور تبت میں آئے ہوئے تقیہ حاشیہ۔عیسائیوں کی اور بعض مجوسیوں کی۔سو یہ ایک علمی تحقیقات سے ثبوت ملتا ہے کہ ضرور حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب سے رہائی پائی تھی اگر انجیل والوں نے اس کے برخلاف لکھا ہے تو اُن کی گواہی ایک ذرہ اعتبار کے لائق نہیں کیونکہ اول تو وہ لوگ واقعہ صلیب کے وقت حاضر نہیں تھے اور اپنے آقا سے طرز بے وفائی اختیار کر کے سب کے سب بھاگ گئے تھے اور دوسرے یہ کہ انجیلوں میں بکثرت اختلاف ہے یہاں تک کہ برنباس کی انجیل میں حضرت مسیح کے مصلوب ہونے سے انکار کیا گیا ہے۔اور تیسرے یہ کہ ان ہی انجیلوں میں جو بڑی معتبر سمجھی جاتی ہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ صلیب کے بعد اپنے حواریوں کو ملے۔اور اپنے زخم اُن کو دکھلائے۔پس اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت زخم موجود تھے جن کے لئے مرہم طیار کرنے کی ضرورت تھی۔لہذا یقینا سمجھا جاتا ہے کہ ایسے موقعہ پر وہ مرہم طیار کی گئی تھی۔اور انجیلوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام چالیس روز اُسی گردو نواح میں بطور مخفی رہے اور جب مرہم کے استعمال سے بکلی شفا پائی تب آپ نے سیاحت اختیار کی۔افسوس کہ ایک ڈاکٹر صاحب نے راولپنڈی سے ایک اشتہار شائع کیا ہے جس میں اُن کو اس بات کا انکار ہے کہ مرہم عیسی کا نسخہ مختلف قوموں کی کتابوں میں پایا جاتا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اُن کو اس واقعہ کے سننے سے کہ حضرت عیسی علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے بلکہ زندہ مگر مجروح ہونے کی حالت میں رہائی پائی بڑی گھبراہٹ پیدا ہوئی اور خیال کیا کہ اس سے تمام منصوبہ کفارہ کا باطل ہوتا ہے۔لیکن یہ قابل شرم بات ہے کہ اُن کتابوں کے وجود سے انکار کیا جائے جن میں یہ نسخہ مرہم عیسی موجود ہے۔اگر وہ طالب حق ہیں تو ہمارے پاس آکر اُن کتابوں کو دیکھ لیں۔اور صرف عیسائیوں کے لئے یہی مصیبت نہیں کہ مر ہم عیسی کی علمی گواہی اُن عقائد کو رڈ کرتی ہے اور تمام عمارت کفارہ و تثلیث وغیرہ کی یکدفعہ گر جاتی ہے بلکہ ان دنوں میں اس ثبوت کی تائید میں اور ثبوت بھی نکل آئے ہیں کیونکہ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے صلیبی واقعہ سے نجات پا کر ضرور ہندوستان کا سفر کیا ہے اور نیپال سے ہوتے ہوئے آخر تبت تک پہنچے اور پھر کشمیر میں ایک مدت تک ٹھہرے۔اور وہ بنی اسرائیل جو کشمیر میں بابل کے تفرقہ کے وقت میں سکونت پذیر ہوئے تھے اُن کو ہدایت کی اور آخر ایک سو بیس برس کی عمر میں سری نگر میں انتقال فرمایا اور محلہ خان یار میں مدفون ہوئے اور عوام