مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 383
مجموعہ اشتہارات ۳۸۳ جلد دوم (۳) آپ کا حسن بیان تمام عالمان ربانی سے صاف صاف علیحدہ نظر آتا ہے۔آپ کی تمام تصنیفات میں ایک زندہ روح ہے (فِيْهَا هُدًى وَّ نُورٌ) (۴) آپ کا مشن کسی فساد اور گورنمنٹ موجودہ کی ( جو تمام حالات سے اطاعت و شکر گذاری کے قابل ہے ) بغاوت کی راہ نمائی نہیں کرتا۔اِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادِ۔حتی کہ میرے بہت سے مہربان دوستوں نے جوان سے آپ کے معاملات پر میں ہمیشہ بحث کرتا رہتا تھا۔مجھے خطاب سے مخاطب کیا۔پھر یہ کہ با ایں ہمہ کیوں؟ میرے منہ سے وہ بیت مثنوی کا نکلا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ میں جب لاہور میں ان کے پاس گیا تو مجھ کو اپنے معتبر دوستوں کے ذریعہ سے ( جن سے پہلے میری بحث رہتی تھی ) خبر ملی کہ آپ سے ایسی باتیں ظہور میں آئی ہیں جس سے کسی مسلمان ایماندار کو آپ کے مخالف خیال کرنے میں کوئی تامل نہیں رہا۔(1) آپ نے دعوی رسول ہونے کا کیا ہے اور ختم المرسلین ہونے کا بھی ساتھ ساتھ ادعا کر دیا ہے جو ایک سچے مسلمان کے دل پر سخت چوٹ لگانے والا فقرہ تھا کہ جو عزت ختم رسالت کی بارگاہ الہی سے محمد عربی صلی اللہ علیہ والہ (فِدَاكَ رُوحِی يَا رَسُولَ اللَّهِ ) کومل چکی ہے اس کا دوسرا کب حقدار ہوسکتا ہے۔(۲) آپ نے فرمایا ہے کہ ترک تباہ ہوں گے اور ان کا سلطان بڑی بے عزتی سے قتل کیا جائے گا اور دنیا کے مسلمان مجھ سے التجا کریں گے کہ میں ان کو ایک سلطان مقرر کر دوں۔یہ ایک خوفناک بر بادی بخش پیشگوئی اسلامی دنیا کے واسطے تھی کیونکہ آج تمام مقدس مقامات پر جو خداوند کے عہد قدیم وجدید سے چلے آتے ہیں۔ان کی خدمت ترکوں وان کے سلطان کے ہاتھ میں ہے۔ان مقامات کا ترکوں کی مغلوبی کی حالت میں نکل جانا ایک لازمی اور یقینی امر ہے جس کے خیال کرنے سے ایک ہیبت ناک و خطرناک نظارہ دکھائی دیتا ہے کہ اس موقعہ پر دنیا کے ہر ایک مسلمان پر فرض ہو جائے گا کہ ان معبدوں کو نا پاک ہاتھوں سے بچانے کے واسطے اپنی جان و مال کی قربانی چڑ ہائے۔