مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 356
مجموعہ اشتہارات ۳۵۶ جلد دوم الہامات اور رویا صادقہ کی کثرت اس طرف ہو کہ یہ عاجز منجانب اللہ اور اپنے دعوی میں سچا ہے تو پھر ہر ایک خدا ترس پر لازم ہوگا کہ میری پیروی کرے اور تکفیر اور تکذیب سے باز آوے۔ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص کو آخر ایک دن مرنا ہے۔پس اگر حق کے قبول کرنے کے لئے اس دنیا میں کوئی ذلت بھی پیش آئے تو وہ آخرت کی ذلت سے بہتر ہے لہذا میں تمام مشائخ اور فقراء اور صلحاء پنجاب اور ہندوستان کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں جس کے نام پر گردن رکھ دینا بچے دین داروں کا کام ہے کہ وہ میرے بارے میں جناب الٹی میں کم سے کم اکیس روز توجہ کریں۔یعنی اس صورت میں کہ اکیس روز سے پہلے کچھ معلوم نہ ہو سکے اور خدا سے انکشاف اس حقیقت کا چاہیں کہ میں کون ہوں؟ آیا کذاب ہوں یا منجانب اللہ۔میں بار بار بزرگان دین کی خدمت میں اللہ جَلَّ شَانُهُ کی قسم دے کر یہ سوال کرتا ہوں کہ ضرور اکیس روز تک اگر اس سے پہلے معلوم نہ ہو سکے۔اس تفرقہ کے دور کرنے کے لئے دعا اور توجہ کریں۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی قسم سن کر پھر التفات نہ کر نار است بازوں کا کام نہیں لے اور میں جانتا ہوں کہ اس قسم کو سن کر ہر ایک پاک دل اور خدا تعالیٰ کی عظمت سے ڈرنے والا ضرور توجہ کرے گا پھر ایسی الہامی شہادتوں کے جمع ہونے کے بعد جس طرف کثرت ہوگی وہ امر منجانب اللہ سمجھا جاوے گا۔اگر میں حقیقت میں کذاب اور دجال ہوں تو اس امت پر بڑی مصیبت ہے کہ ایسی ضرورت کے وقت میں اور فتنوں اور بدعات اور مفاسد کے طوفان کے زمانہ میں بجائے ایک مصلح اور مجدد کے چودھویں صدی کے سر پر دجال پیدا ہوا۔یاد رہے کہ ایسا ہر ایک شخص جس کی نسبت ایک جماعت اہل بصیرت مسلمانوں کی صلاح اور تقویٰ اور پاک دلی کا ظن رکھتی ہے وہ اس اشتہار میں میرا مخاطب ہے۔اور یہ بھی یادر ہے کہ جو صلحاء شہرت کے لحاظ سے کم درجہ پر ہیں میں اُن کو کم نہیں دیکھتا ممکن ہے کہ وہ شہرت یافتہ لوگوں سے خدا تعالیٰ کی نظر میں زیادہ اچھے ہوں۔اسی طرح میں صالحہ عفیفہ لے میں علاوہ قسم کے مشائخ وقت کی خدمت میں ان کے پیرانِ خاندان کا واسطہ ڈالتا ہوں کہ وہ ضرور میری تصدیق یا تکذیب کے لئے خدا تعالیٰ کے جناب میں توجہ کریں۔منه