مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 352

مجموعہ اشتہارات ۳۵۲ جلد دوم اشارہ فرمایا گیا کہ مسیح موعود کا نور نزول فرما کر اس جگہ تک پھیلے گا جہاں تثلیث کا مسقط الرأس ہے۔مگر افسوس کہ علماء مخالفین نے اس صاف اور صریح مسئلہ کو قبول نہیں کیا۔پھر یہ بھی نہیں سوچا کہ قرآن شریف اس لئے آیا ہے کہ تا پہلے اختلافات کا فیصلہ کرے اور یہود اور نصاریٰ نے جو حضرت عیسی کے رفع الی السماء میں اختلاف کیا تھا جس کا قرآن نے فیصلہ کرنا تھا۔وہ رفع جسمانی نہیں تھا بلکہ تمام جھگڑا اور تنازع روحانی رفع کے بارے میں تھا۔یہود کہتے تھے کہ نعوذ باللہ عیسی لعنتی ہے یعنی خدا کی درگاہ سے رد کیا گیا اور خدا سے دور کیا گیا اور رحمت الہی سے بے نصیب کیا گیا جس کا رفع الی اللہ ہرگز نہیں ہوا کیونکہ وہ مصلوب ہوا اور مصلوب توریت کے حکم کے رو سے رفع الی اللہ سے بے نصیب ہوتا ہے جس کو دوسرے لفظوں میں لعنتی کہتے ہیں توریت کا یہ منشاء تھا کہ سچا نبی بھی مصلوب نہیں ہوتا اور جب مصلوب جھوٹا ٹھیرا تو بلاشبہ وہ لعنتی ہوا جس کا رفع الی اللہ غیر ممکن ہے اور اسلامی عقیدہ کی طرح یہود کا بھی عقیدہ تھا کہ مومن مرنے کے بعد آسمان کی طرف اٹھایا جاتا ہے اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور حضرت عیسی کے کافر ٹھیرانے کے لئے یہود کے ہاتھ میں یہ دلیل تھی کہ وہ سولی دیا گیا ہے اور جو شخص سولی دیا جائے اس کا توریت کی رو سے رفع الی السماء نہیں ہوتا یعنی وہ مرنے کے بعد آسمان کی طرف نہیں اٹھایا جاتا بلکہ ملعون ہو جاتا ہے لہذا اس کا کافر ہونالازم آیا اور اس دلیل کے ماننے سے عیسائیوں کو چارہ نہ تھا کیونکہ توریت میں ایسا ہی لکھا ہوا تھا تو انہوں نے اس بات کو ٹالنے کے لئے دو بہانے بنائے ایک یہ کہ اس بات کو مان لیا کہ بے شک یسوع جس کا دوسرا نام عیسی ہے مصلوب ہو کر لعنتی ہوا۔مگر وہ لعنت صرف تین دن تک رہی۔پھر بجائے اس کے رفع الی اللہ اس کو حاصل ہوا۔اور دوسرا یہ بہانہ بنایا گیا کہ چند ایسے آدمیوں نے جو حواری نہیں تھے گواہی بھی دیدی کہ ہم نے یسوع کو آسمان پر چڑھتے بھی دیکھا گویا رفع الی اللہ ہو گیا جس مومن ہونا ثابت ہوتا ہے۔مگر یہ گواہی جھوٹی تھی جو نہایت مشکل کے وقت بنائی گئی۔بات یہ ہے کہ جب یہود نے حواریوں کو ہر روز دق کرنا شروع کیا کہ بوجہ مصلوبیت یسوع کا لعنتی ہونا ثابت ہو گیا یعنی رفع الی اللہ نہیں ہوا۔تو اس اعتراض کے جواب سے عیسائی نہایت تنگ