مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 351

مجموعہ اشتہارات ۳۵۱ جلد دوم اسکے کرنے کے لئے آپ کو مجبور کرتا ہوں۔یہ ہے کہ خدا تعالی نے عین ضلالت اور فتنہ کے وقت میں اس عاجز کو چودھویں صدی کے سر پر اصلاح خلق اللہ کے لئے مسجد دکر کے بھیجا۔اور چونکہ اس صدی کا بھا را فتنہ جس نے اسلام کو نقصان پہنچایا تھا عیسائی پادریوں کا فتنہ تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس عاجز کا نام مسیح موعود رکھا۔اور یہ نام یعنی مسیح موعود وہی نام ہے جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی تھی۔اور خدا تعالیٰ سے وعدہ مقرر ہو چکا تھا کہ تثلیث کے غلبہ کے زمانہ میں اس نام پر ایک مجدد آئے گا جس کے ہاتھ پر کسر صلیب مقدر ہے۔اس لئے صحیح بخاری میں اس مجدد کی یہی تعریف لکھی ہے کہ وہ امت محمدیہ میں سے ان کا ایک امام ہوگا اور صلیب کو توڑے گا۔یہ اسی بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ صلیبی مذہب کے غلبہ کے وقت آئے گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق ایسا ہی کیا اور اس عاجز کو چودھویں صدی کے سر پر بھیجا اور وہ آسمانی حربہ مجھے عطا کیا جس سے میں صلیبی مذہب کو توڑ سکوں۔مگر افسوس کہ اس ملک کے کو تہ اندیش علماء نے مجھے قبول نہیں کیا اور نہایت بیہودہ عذرات پیش کئے جن کو ہر پہلو سے توڑا گیا۔انہوں نے یہ ایک لغو خیال پیش کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر منارہ دمشق کے پاس آخری زمانہ میں اتریں گے اور وہی مسیح موعود ہوں گے۔پس ان کو جواب دیا گیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا جسم عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر چلے جانا ہر گز صحیح نہیں ہے۔ایک حدیث بھی جو صحیح مرفوع متصل ہوایسی نہیں ملے گی جس سے ان کا زندہ آسمان پر چلے جانا ثابت ہوتا ہو بلکہ قرآن شریف صریح ان کی وفات کا بیان فرماتا ہے اور بڑے بڑے اکابر علماء جیسے ابن حزم اور امام مالک رضی اللہ عنہما ان کی وفات کے قائل ہیں۔پھر جبکہ نصوص قطعیہ سے ان کا وفات پانا ثابت ہوتا ہے تو پھر یہ امید رکھنا کہ وہ کسی وقت دمشق کے شرقی منارہ کے پاس نازل ہوں گے کس قدر غلط خیال ہے بلکہ اس صورت میں دمشقی حدیث کے وہ معنے کرنے چاہیں جو قرآن اور دوسری حدیثوں سے مخالفت نہ رکھتے ہوں اور وہ یہ ہے کہ مسیح موعود کا نزول اجلال واکرام جو ایک روحانی نزول ہے دمشق کے مشرقی منارتک اپنے انوار دکھلائے گا۔چونکہ دمشق تثلیث کے خبیث درخت کا اصل منبت ہے اور اسی جگہ سے اس خراب عقیدہ کی پیدائش ہوئی ہے اس لئے