مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 301

مجموعہ اشتہارات جلد دوم کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام ظلہا کے شصت سالہ زمانہ تخت نشینی کو امن اور عافیت اور ترقی اقبال کے ساتھ پورا کیا۔اور اس زمانہ میں بے شمار فوائد اپنے بندوں کو پہنچائے۔سو میری رائے ہے کہ اس خوشی کے اظہار اور شکر اور دعا کے لئے میری جماعت کے دوست اور احباب جو پنجاب اور ہندوستان کے مختلف شہروں میں مقیم ہیں ، انیس جون ۱۸۹۷ء کو بمقام قادیان جمع ہوں۔اور جیسا کہ اس بارے میں ہدایات از جانب جناب وائس پریذیڈنٹ جنرل کمیٹی اہل اسلام ہند بتاریخ یکم جون ۱۸۹۷ء شائع ہوئی ہیں اُن کے مطابق ۲۰ / اور ۲۱ / جون ۱۸۹۷ء کو اظہار شکر اور دعا اور خوشی کی جائے۔چونکہ ہماری جماعت کی طرف سے اظہار خوشی اور شکر اور دعا کے لیے یہ ایک عام جلسہ ہے جس کی مدد مصارف میں ہر ایک کو شریک ہونا واجب ہے لہذا تاکید کے طور پر یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ جس جس صاحب کو یہ اشتہار پہنچے وہ اپنی طاقت اور مقدرت کے موافق اس جلسہ کے مصارف کے لئے بلا توقف چندہ روانہ کریں۔ہر ایک شخص اپنی حیثیت کے موافق اس ہدایت پر کار بند ہو۔اس جلسہ کے لئے جس قدر صاحب چندہ دینے میں شریک ہوں گے اور ۲۰ / جون ۱۸۹۷ء سے پہلے قادیان میں آکر تمام جماعت کے ساتھ جلسہ شکریہ کے مراسم ادا کریں گے ان تمام صاحبوں کے نام تفصیل رقم چندہ اور نیز باظہار اس تمام سرگرمی اور مستعدی کے جو ان سے ظاہر ہوئی لکھ کر بذریعہ طبع شائع کئے جائیں گے اور ایک کا پی اُن کی جنرل کمیٹی کو بھی بھیجی جائے گی تا جیسا کہ جنرل کمیٹی اہل اسلام ہند کی طرف سے وعدہ ہے ان کے نام قومی تاریخ میں یادگار کے واسطے درج ہوں۔اگر کسی کے دل میں یہ وسوسہ گذرے کہ یہ تمام امور دنیا داری اور خوشامد میں داخل ہیں اور الہی سلسلہ سے مناسبت نہیں رکھتے تو اس کو یقیناً سمجھنا چاہیے کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے۔ہم اس شکر گزاری کے جلسہ میں سرکار انگریزی سے کسی جاگیر کی درخواست نہیں کرتے اور نہ کوئی لقب چاہتے ہیں اور نہ کسی انعام کے خواستگار ہیں اور نہ یہ خیال ہے کہ وہ ہمیں اچھا کہیں بلکہ یہ جلسہ محض اس بار سے سبکدوش ہونے کے لئے ہے جو ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے احسانات کا بار ہمارے سر پر ہے۔خوب یا درکھو کہ جو شخص انسان کا شکر ادا نہیں کرتا اس نے خدا کا بھی شکر ادا نہیں کیا۔ہمارے