مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 268
مجموعہ اشتہارات ۲۶۸ جلد دوم کرا دیا جائے گا کچھ تو ہمارا مقصد اور غرض ہونی چاہیے۔پس کیا وہ یہی غرض ہو سکتی ہے کہ ہمیں کوئی جوتشیوں اور ریلیوں کی طرح سمجھ لے ؟ نہیں بلکہ اس قدر مالی زیر باری اٹھانے کے لئے محض ہم اس لئے طیار ہو گئے ہیں کہ تا اس سے اسلام کے مقابل پر ہندو مذہب کا فیصلہ ہو جائے۔سواگر لالہ بشن صاحب اس میدان کا بہادر اپنے تئیں سمجھتے ہیں تو اب بیہودہ حیلوں حوالوں سے اپنا قدم باہر نہ کریں۔وہ اپنے اس اقرار کو یاد کریں جو اپنی قلم سے ۳ را پریل کے سا چار میں شائع کر بیٹھے ہیں۔ان کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس حالت میں ان کا مقولہ ہے کہ بعض وقت میں خدا کو بھی جواب دے دیتا ہوں تو پھر دس ہزار روپیہ کی طمع پران کو یہ کہنا کیا مشکل ہے کہ اگر میں مرگیا تو میرا مرنا اس بات کا قطعی ثبوت ہوگا کہ دنیا میں صرف دین اسلام ہی سچا ہے اور دوسرے مذہب جو اس کے مخالف ہیں جیسے آریہ مذہب اور سناتن دھرم اور عیسائی مذہب سب باطل ہیں اور نیز کہ اگر میں مر گیا تو میرا مرنا اس بات کو ثابت کرے گا کہ لیکھرام کی موت کی پیشگوئی درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی۔غرض انہی مفید باتوں کے لئے تو ہم دس ہزار روپیہ دیتے ہیں اور یہ رقم کثیر سی اقرار کی تو قیمت ہے ورنہ ہم نے اپنے اشتہار ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء میں ایک حبہ دینے کا بھی کسی کے ساتھ عہد نہیں کیا۔یہی تو وہ غرض ہے جس کو ہم نے مد نظر رکھ کر گنگا بشن صاحب کو منہ مانگی مراد دی۔ناظرین ذرہ سوچیں کہ ایسا شخص جو خود کہتا ہے کہ مجھ کو کسی مذہب سے دلی تعلق نہیں یہاں تک کہ بعض وقت خدا کو بھی جواب دے دیا کرتا ہوں اس پر ان دو اقرار کرنے سے کونسی مصیبت پڑتی ہے۔بہر حال یہ بات خوب یا درکھنی چاہیے کہ جبکہ گنگا بشن صاحب نے اپنی طرف سے دس ہزار روپیہ جمع کرانے کی شرط بڑھا دی ہے۔جس کا ہمارے اشتہار ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء میں نام ونشان نہ تھا تو ہم اس شرط کے عوض میں یہ چاہتے ہیں کہ وہ اخبار کے ذریعہ سے اور نیز جلسہ عام میں قسم کے ساتھ ہمارے اصل مقصد کا تصریح کے ساتھ اقرار کریں۔اور پھر ہم مکر رلکھ دیتے ہیں کہ جو اقرار وہ اخبار میں بقید اپنی ولدیت و قومیت و سکونت وضلع و ثبت شهادت گواہان معززین شائع کریں گے۔اُس کا لفظ بلفظ