مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 238
مجموعہ اشتہارات ۲۳۸ جلد دوم رَبِّ ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ۔وَلَا تَيْنَسُ مِنْ رُوحِ اللَّهِ أَلَا إِنَّ رَوْحَ اللَّهِ قَرِيبٌ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيبٌ يَأْتِيَكَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَنْصُرُكَ اللهُ ہ حاشیہ۔دوسرا فتنہ جو دوسرے درجہ پر ہے محمد حسین بٹالوی کا فتنہ ہے جس فتنہ کی نسبت براہین کے صفحہ ۵۱۰ میں یہ لکھا ہے۔وَاذْيَمْكُرُبِكَ الَّذِي كَفَرَ اَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ لَعَلَّى اَطَّلِعُ إِلَى إِلَهِ مُوسَى وَإِنِّي لَا ظُنُّهُ مِنَ الْكَاذِبِينَ۔تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَّ تَبَّ۔مَا كَانَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ فِيْهَا إِلَّا خَائِفًا، وَمَا أَصَابَكَ فَمِنَ اللَّهِ الْفِتْنَةُ هُنَا۔فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ۔أَلَا إِنَّهَا فِتْنَةٌ مِّنَ اللَّهِ لِيُحِبَّ حُبًّا جَمَّا۔حُبًّا مِّنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْأَكْرَمِ عَطَاءً غَيْرَ مَجُدُودٍ۔یعنی وہ زمانہ یا د رکھ کہ جب ایک منکر تجھ سے مکر کرے گا اور اپنے دوست ہامان کو کہے گا کہ فتنہ کی آگ بھڑکا کہ میں موسیٰ کے خدا پر اطلاع پانا چاہتا ہوں۔اور میں گمان کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ آپ بھی ہلاک ہو گیا۔اس کو نہیں چاہیے تھا کہ تکفیر اور تکذیب کے امر میں دخل دیتا مگر یہ کہ ڈرتا ہوا۔ان باتوں کو پوچھ لیتا کہ جو اس کو سمجھ نہیں آتی تھیں اور تجھے جو کچھ پہنچے گا وہ خدا کی طرف سے ہے۔اس جگہ ایک فتنہ ہوگا۔پس تجھے صبر کرنا چاہیے جیسا کہ اولوالعزم نبی صبر کرتے رہے۔یادرکھ کہ وہ فتنہ خدا کی طرف سے ہوگا تا وہ تجھ سے بہت ہی پیار کرے۔خدا کا پیار جو اللہ عزیز اکرم ہے۔یہ وہ عطا ہے جو واپس نہیں لی جائے گی۔اس وقت مجھے یہ سمجھ آیا ہے کہ الہام میں ہامان سے مُرادنذیر حسین محدث دہلوی کیونکہ پہلے سب سے محمد حسین اس کی طرف التجالے گیا اور یہ کہا اوقدْ لِي يَا هَامَانُ۔اس کا یہ مطلب ہے کہ تکفیر کی بنیاد ڈال دے تا دوسرے اس کی پیروی کریں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نذیر حسین کی عاقبت تباہ ہے اگر تو بہ کر کے نہ مرے۔اور ممکن ہے کہ ابولہب سے مراد بھی نذیر حسین ہی ہو اور محمد حسین کا انجام اس آیت پر ہو۔آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِى أُمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَاوِيْلَ لے کیونکہ بعض رؤیا اس عاجز کی اس تاویل کی مؤید ہیں۔پس خدا کے فضل سے کچھ تعجب نہیں کہ یہ متواتر تائیدوں کو دیکھ کر آخر تو بہ کرے اور ہامان مارا جائے۔تیسرا فتنہ جو تیسرے درجہ پر ہے لیکھرام کی موت کا فتنہ ہے یعنی آریوں کی بدگمانیاں اور ضرررسانی کے لئے پوشیدہ کوششیں جیسا کہ پیسہ اخبار میں بھی ان کے قتل کے ارادوں کا ذکر ہے اور براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۷ میں اس فتنہ اور اس کے ساتھ کے نشان کی نسبت یہ الہام ہے میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔دُنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔الْفِتْنَةُ هَهُنَا۔فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ۔فَلَمَّا تَجَلَّى رَبَّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكَّا۔یعنی اس جگہ ایک فتنہ ہوگا۔پس صبر کر اور جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر جلی کرے گا تو انہیں پاش پاش کر دے گا۔یہ براہین احمدیہ کے الہام ہیں۔مگر اس تحریر کے وقت ابھی ایک الہام ہوا۔اور وہ یہ ہے ” سلامت بر تو اے مرد سلامت“۔منہ يونس : ۹۱