مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 233
مجموعہ اشتہارات ۲۳۳ جلد دوم عید کا دن لکھا ہے یہ اس کی غلطی ہے۔الہام کی عبارت یہ ہے سَتَعْرِفُ يَوْمَ الْعِيدِ وَالْعِيْدُ اقْرَبُ یعنی تو اس نشان کے دن کو جو عید کے مانند ہے پہچان لے گا اور عید اس نشان کے دن سے بہت قریب ہوگی۔یہ خدا نے خبر دی ہے کہ عید کا دن قتل کے دن کے ساتھ ملا ہوا ہوگا اور ایسا ہی ہوا۔عید جمعہ کو ہوئی اور شنبہ کو جو شوال ۱۳۱۴ھ کی دوسری تاریخ تھی لیکھرام قتل ہو گیا۔سو اس تمام پیشگوئی کا ماحصل یہ ہے کہ یہ ایک ہیبت ناک واقعہ ہوگا جو چھ سال کے اندر وقوع میں آئے گا اور وہ دن عید کے دن سے ملا ہوا ہو گا یعنی دوسری شوال کی ہوگی۔اب سوچو کیا یہ انسان کا کام ہے کہ تاریخ بتلائی گئی دن جتلایا گیا۔سبب موت بتلایا گیا اور اس حادثہ کا وقوعہ ہیبت ناک طرز سے ظہور میں آنا بتلایا گیا۔اس کا تمام نقشہ برکات الدعاء کے مضمون میں کھینچ کر دکھایا گیا۔کیا یہ کسی منصو بہ باز کا کام ہوسکتا ہے کہ چھ برس پہلے ایسے صریح نشانوں کے ساتھ خبر دے دے اور وہ خبر پوری ہو جائے۔تو ریت گواہی دیتی ہے کہ جھوٹے نبی کی پیشگوئی کبھی پوری نہیں ہو سکتی خدا اس کے مقابل پر کھڑا ہو جاتا ہے تا دنیا تباہ نہ ہو۔جیسا کہ لیکھرام نے بھی ایک دنیوی چالا کی سے انہیں دنوں میں میری نسبت یہ اشتہار دیا تھا کہ تم تین برس کے عرصہ تک مرجاؤ گے۔پس کیوں وہ کسی قاتل سے شازش نہ کر سکا تا اُس کی بات پوری ہوتی۔ایک اور بات سوچنے کے لائق ہے کہ یہ بدگمانی کہ ان کے کسی مرید نے ماردیا ہوگا یہ شیطانی خیال ہے۔ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ مریدوں کا مرشد کے ساتھ ایک نازک تعلق ہوتا ہے۔اور اعتقاد کی بناء تقویٰ اور طہارت اور نیکو کاری پر ہوتی ہے۔لوگ جو کسی کے مرید ہوتے ہیں وہ اسی نیت سے مرید ہوتے ہیں کہ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ شخص باخدا ہے۔اس کے دل میں کوئی فریب اور فساد کی بات نہیں۔پس اگر وہ ایک ایسا بد کا راور لعنتی شخص ہے کہ کسی کی موت کی جھوٹی پیش گوئی اپنی طرف سے بناتا ہے اور پھر جب اس کی میعاد ختم ہونے پر ہوتی ہے تو کسی مرید کے آگے ہاتھ جوڑتا ہے کہ اب میری عزت رکھ لے اور اپنے گلے میں رسہ ڈال اور مجھے سچا کر کے دکھلا۔اب میں منصفوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا ایسے پلید لعنتی انسان کا یہ چال چلن دیکھ کر اور یہ شیطانی منصو بہ سن کر کوئی مرید اس کا معتقد ہوسکتا ہے۔کیا وہ مرشد کو ایک بد کار ملعون اور فاسق فاجر خیال نہیں کرے گا اور کیا وہ اس کو یہ نہیں کہے گا کہ اصلیت یہی تھی۔کیا تیرا یہ منشاء ہے کہ جھوٹ تو بولے اور رسہ دوسرے کے گلے میں پڑے اور اس