مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 185

مجموعہ اشتہارات ۱۸۵ جلد دوم ابن مریم کو خدا بنایا گیا ہے۔وہ صرف ایک انسان ہے اور موسوی شریعت کے خادموں میں سے ایک نبی۔تم نے اس کو نہیں دیکھا مگر میں نے بارہا اس کو دیکھا ہے۔تم میں سے کوئی بھی اس کو نہیں جانتا مگر میں جانتا ہوں۔وہ ایک سعادت مند انسان ہے جو موسی" کی عظمت کا قائل اور ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگیوں پر بدل و جان ایمان لایا ہے اور ہماری طرح اس راہ میں فدا ہے اگر وہ اس وقت دنیا میں آتا اور دیکھتا کہ مجھے خدا بنایا گیا اور میرا کفارہ گھڑا گیا تو وہ اپنی ناچیز ہستی اور اس بیجا تعریف کو خیال میں لا کر مارے شرم کے مرنے کو قبول کرتا اور خدا سے اپنی مغفرت چاہتا۔پھر بتلاؤ اس کی خدائی پر کونسی دلیل تمہارے پاس ہے کیا اُسی کی باتوں یا حواریوں کی باتوں سے اس کی خدائی ظاہر ہوتی ہے۔اگر ہم مان بھی لیں کہ اس کی یا اس کے دوستوں کی باتوں سے خدائی کا دعوی پایا جاتا ہے تو یہ نزادعویٰ ہوگا جو بغیر ثبوت ایک کوڑی کی قیمت نہیں رکھتا حالانکہ انجیل کی رو سے یہ دعویٰ بھی ثابت نہیں ہوسکتا۔انجیل یہ کہیں بیان نہیں کرتی کہ مریم کے صاحبزادہ نے کبھی مرد میدان بن کر خدائی کا دعوی کیا تھا۔بلکہ جب یہودیوں نے ایک دفعہ اسے ڈانٹا تو یسوع نے اپنی خدائی سے انکار کیا اور کہا کہ میں کوئی کلمہ ایسا منہ پر نہیں لایا جو تمہارے بزرگوں کے کلمات سے بڑھ کر ہو۔پھر اگر یہ خیال ہو کہ پہلی کتابوں کی پیشگوئیوں میں اس کی خدائی لکھی ہوئی ہے تو اس خیال سے زیادہ کوئی خیال بے ہودہ نہیں ہوگا کیونکہ اگر پہلی کتابوں کی پیشگوئیوں یا ان کی تعلیم کی رو سے یہ فیصلہ ہوجاتا کہ مریم کا بیٹا خدا ہے تو یہود اب تک کیوں کر منکر رہ سکتے تھے۔کوئی عقل قبول نہیں کر سکتی کہ یہودیوں کی کتابوں میں ایک خدا کے پیدا ہونے کی پیشگوئیاں موجود تو ہوں اور اس خدا کے ماننے کے لئے پیغمبروں کی کھلی کھلی وصیتیں کتابوں میں لکھی گئی ہوں اور کئی ہزار برس سے تثلیث کی تعلیم ان میں مسلسل چلی آتی ہو۔پھر وہ ایسے خدا اور ایسی تعلیم سے انکار کر کے اس ایمان کو ضائع کریں جو ان کو متواتر سکھلایا گیا تھا۔نہیں بلکہ یہ عیسائیوں کی شرارت اور حماقت ہے جو ایسا سمجھتے ہیں۔اور اصل بات یہ ہے کہ وہ تمام پیشگوئیاں جن کے غلط معنے کر کے یسوع کو خدا بنایا جاتا ہے۔پیغمبروں کی تعلیم سے اب تک یہودیوں کے ذہن میں محفوظ ہیں جو مسیح سے پہلے اپنے وقتوں میں پوری بھی ہو چکیں۔اگر یہودیوں کو کسی خدا کا وعدہ