مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 116

مجموعہ اشتہارات جلد دوم سکتے۔اور میں اس وقت اس تفسیر مقدس کی زیادہ تعریف لکھنا کچھ ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ ہر ایک شخص چھپنے اور شائع ہونے کے بعد خود معلوم کر لے گا کہ کس پایہ کی تفسیر ہے بعض پادری صاحبوں نے باوجود نہایت تنگ اور محدود ہونے معلومات کے قرآن شریف کا ترجمہ لکھ کر شائع کیا اور بجز اس کے کچھ نہ دکھلایا کہ چند مشہور تر جموں میں سے اپنی مرضی کے موافق التقاط کر کے کچھ کچھ دجل اور تلیس کے طور پر بھی اس کے ساتھ شامل کر دیا۔مگر ظاہر ہے کہ یہ کام نہ کچھ مشکل اور نہ عجیب تھا۔ہاں اگر اس میں کچھ عجیب بات تھی تو وہی قدیمی تحریف تھی جو اس قوم کے حصہ میں آگئی ہے۔مگر عنقریب منصفین معلوم کریں گے جو ہماری تفسیر انجیل محققانہ طرز پر ہوگی اور دلوں کو ان سچائیوں سے منور کرے گی جو حق کے طالبوں کی مراد اور مقصود ہیں۔واضح رہے کہ اس تفسیر کی دنیا کو نہایت ضرورت تھی اور ہزاروں کے دل اس فیصلہ کے لیے جوش میں تھے کہ اس زمانہ میں کسی تعلیم کو تمام تعلیموں سے اکمل واتم واعلیٰ وارفع سمجھا جائے۔چنانچہ عیسائی بجائے خود اصرار کرتے تھے کہ انجیل کی تعلیم اعلی اور اکمل ہے اور اہل اسلام نہ اپنے دعوئی سے بلکہ خدا کی پاک کلام کی رُو سے اس بات پر زور دیتے تھے کہ وہ تعلیم جو اعلیٰ اور اکمل دُنیا میں آئی وہ صرف قرآن شریف ہے مگر عیسائیوں کو اس سچی بات کے سننے کی برداشت نہیں تھی بلکہ جیسا کہ ہمیشہ جاہلوں اور سفیہوں اور کمبخت جلد بازوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بجائے فکر اور تدبر کے ٹھٹھے اور ہنسی کی طرف جھک جاتے ہیں یا بے اصل افتراؤں سے کام لیتے ہیں یہی عادت عیسائیوں کی تھی۔سو ہم نے اس تفسیر کو یکطرفہ طور پر نہیں لکھا بلکہ اس خیال سے کہ اس تقریب پر قرآن اور انجیل کا مقابلہ اور موازنہ بھی ہو جائے جابجا انجیلی تعلیم کے مقابل پر قرآنی تعلیم کو دکھلایا ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ طرزان لوگوں کے لیے بہت مفید ہوگی جو انجیل اور قرآن شریف کی تعلیم کو بالمقابل وزن کرنا چاہتے ہیں۔اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ نو تعلیم یافتہ لوگ جو زیرک ہیں اس طرز سے سب سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں گے۔اور میں نے اس تفسیر میں یہ بھی مناسب دیکھا ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور یسوع صاحب کے اخلاق کا بھی باہم مقابلہ کیا جائے۔کیونکہ اس بارے میں بھی اکثر عیسائی صاحبوں کو بہت دھوکا لگا ہوا ہے۔لہذا یہ تمام التزام تفسیر میں کئے گئے ہیں۔اور یہ