مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 84
مجموعہ اشتہارات ۸۴ ۱۴۶ جلد دوم مسٹر آتھم صاحب اور پادری فتح مسیح یہ بات ناظرین کو معلوم ہے کہ ہم اس وقت تک پانچ اشتہار اس بارے میں نکال چکے ہیں کہ در حقیقت وہ ہماری پیشگوئی جو آتھم صاحب کے متعلق تھی پوری ہو گئی چاہیے تھا کہ عیسائی صاحبان اپنی غلطی سے رجوع کرتے اور پیشگوئی کے پورا ہونے کا اقرار شائع کر دیتے۔ان پر اس بات کا سمجھنا نہایت آسان تھا کہ پیشگوئی کے ساتھ رجوع الی الحق کی شرط لگی ہوئی تھی اور آتھم صاحب سے ایسی حرکات صادر ہو گئیں تھیں کہ جو بآواز بلند پکار رہی تھیں کہ شرط پوری ہوگئی اور انہوں نے پیشگوئی کے بعد اپنے ڈرتے رہنے کا اقرار صاف لفظوں میں کر دیا تھا اور اُن باتوں کا اب تک انہوں نے ثبوت نہیں دیا تھا۔جو اپنے خوف کی بنیاد انہوں نے قرار دی تھیں یعنی سانپ کا حملہ اور تلواروں اور نیزوں والوں کا حملہ۔سو بالضرور یہ بات گھل گئی تھی کہ وہ صرف پیشگوئی سے ہی ڈرتے رہے اور نزل کے طور پر آتھم صاحب کو یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر وہ اپنے بے دلیل دعووں کا کوئی اور ثبوت نہیں دے سکتے تو وہ قسم ہی کھا جائیں مگر انہوں نے قسم کھانے سے بھی انکار کیا۔اب اس سے زیادہ ان کے جھوٹ کھلنے پر اور کیا دلیل ہو سکتی تھی کہ انہوں نے خود اپنے منہ سے خوف کا اقرار کر کے اور اپنے خیال سے وہ خوف دکھلا کر پھر یہ ثبوت نہیں دیا کہ ان کا وہ خوف پیشگوئی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ان حملوں کی وجہ سے تھا جو اُن پر کئے گئے اور نہ قسم کھائی۔الہامی شرط خود بتلا رہی تھی کہ اس پیشگوئی میں رجوع الی الحق ممکنات میں سے ہے۔تبھی تو الہام میں یہ شرط داخل کی گئی تھی۔اور یہ نہایت غلطی تھی کہ باوجود شرط کے صرف مرنے