مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 598
ہماری ایمانداری کا یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ ہم تہ دل سے اقرار کریں کہ درحقیقت یہ گورنمنٹ ہماری مُحسن ہے۔ہم اس گورنمنٹ کے قدوم میمنت لزوم سے ہزاروں بلاؤں سے بچے اور ہمیں وہ آزادی بقیہ حاشیہ۔تعلیم دے سکتا تھا کہ تم اپنے دین کے منکروں کو قتل کر دو اور ان کے مال لُوٹ لو اور اُن کے گھروں کو ویران کر دو بلکہ اسلام کی ابتدائی کارروائی جو حُکمِ الٰہی کے موافق تھی صرف اتنی تھی کہ جنہوں نے ظالمانہ طور سے تلوار اُٹھائی وہ تلوار ہی سے مارے گئے اور جیسا کیا ویسا اپنا پاداش پا لیا۔یہ کہاں لکھا ہے کہ تلوار کے ساتھ منکروں کو قتل کرتے پھرو یہ تو جاہل مولویوں اور نادان پادریوں کا خیال ہے جس کی کچھ بھی اصلیّت نہیں۔اس لئے خُدا نے جو راستی کا حامی ہے اور کسی صداقت کو ضائع کرنا نہیں چاہتا۔اس زمانہ میں اس عاجز کو مامور کر کے ارادہ کیا کہ جہاد کا الزام اسلام پر سے اُٹھاوے اور لوگوں کو دکھاوے کہ اسلام اپنی ترقیوں میں جبر اور تلوار کا ہرگز محتاج نہیں بلکہ اپنی رُوحانی طاقت سے دلوں پر اثر کرتا ہے۔اور جو نادان مولوی جہاد کے مسئلہ کا وِرد زبان پر رکھتے ہیں گویا وہ چاہتے ہیں کہ اسلام کے دامِنِ پاک کو چار طرفہ اعتراضوں کی پلیدی سے آلودہ کریں۔یہ معقول روشنی کا وقت اسلام کی بریّت ظاہر کرنے کا وقت ہے اور بخدا وہ حقیقت میں بری اور نہایت اعلیٰ شان کا مذہب ہے جو اسی خُدا کو پیش کرتا ہے جو درحقیقت خدا ہے اور نجات کو کسی بناوٹی کفارہ سے نہیں بلکہ سچّی پاکیزگی سے وابستہ کرتا ہے پس اس کی طرف جہاد اور جبر کومنسوب کرنا ایک ظلم صریح ہے۔ہمارے اس ملک میں وہ لوگ نہایت خطرناک خیالات میں گرفتار ہیں جو ایک ایسے خونی مسیح کے منتظر ہیں جو اُن کے زعم میں عیسائیوں کے ساتھ سخت لڑائیاں کر کے ان کی صلیبوں کو توڑ دے گا اور ان کے خنزیروں کو قتل کر دے گا۔گویا وہ اسلام پر ایک نیا الزام قائم کرانے کے لیے آئے گا نہ پہلے غلط الزاموں کو دُور کرنے کے لیے۔ایسا ہی یہ لوگ ایک خونی مہدی کے منتظر ہیں جو دُنیا کو خون سے بھر دے گا بلکہ ایک گروہ ان میں سے ایک شخص سیّد احمد نام کا منتظر ہے جس نے سکھوں سے لڑائی کی تھی اور ان کا خیال ہے کہ وہ زندہ ہے اور پھر دنیا میں اس کا ظہور ہوگا۔چنانچہ ان کی ایک جماعت پلوسہ کے قریب یاغستان میں ابتک پڑی ہے اور غالباً اور کئی ان کے ہم خیال ہندوستان میں ہوں گے۔اسی بناء پر بعض مولویوں سے مفسدانہ حرکات ۱۸۵۷ء میں ظاہر ہوئیں۔چنانچہ اُن میں سے مولوی عبد العزیز برادر مولوی محمد ساکن لدھیانہ ہیں جن کی نسبت سرکاری کاغذات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بماہ جون ۱۸۵۷ء ہمراہ پدر خود باغی مفسدوں کے ساتھ دہلی چلے گئے اور مفسدوں میں شامل رہے۔اور پھر ۱۸۵۹ء میںدہلی سے گرفتار ہوئے اور آخر بدمعاشوں کی فہرست میں درج کئے