مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 597 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 597

احسان کا بدلہ بجز احسان کے اور کچھ نہیں۔اور یہ بات قطعی اور فیصلہ شدہ ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ مسلمانان ہند کی محسن ہے کیونکہ سکھوں کے زمانہ میں ہمارے دین اور دُنیا دونوں پر مصیبتیں تھیں۔خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو دُور سے ابرِ رحمت کی طرح لایا اور ان مصیبتوں سے اس گورنمنٹ کے عہدِدولت نے ایک دم میں ہمیں چھوڑا دیا۔پس اس گورنمنٹ کا شکر نہ کرنا بدذاتی ہے اور جو شخص ایسے احسانات دیکھ کر پھر نفاق سے زندگی بسر کرے اور سچّے دل سے شکر گذار نہ ہو تو بلاشبہ کافرِ نعمت ہے۔۱؎ ۱؎ نوٹ:۔اس زمانہ میں اکثر عیسائی معلّموں نے یہ اعتراض غلط فہمی سے اسلام پر کیا ہے کہ اسلام جبر اور تلوار کے زور سے پھیلایا گیا ہے۔مگر افسوس کہ ایسے معترضوں نے قرآن کریم کی ان تعلیموں پر غور نہیں کی جن میں لکھا ہے کہ تم دوسری قوموں کے ظلم اور ایذا کی برداشت کر کے نرمی کے ساتھ دعوتِ حق کرو۔خاص کر عیسائیوں کے مقابل پر یہ حکم تھا کہ      ۲؎ یعنی جب تو کسی عیسائی معلّم کے ساتھ بحث کرے تو حکمت اور نیک نصیحتوں کے ساتھ بحث کر جو نرمی اور تہذیب سے ہو۔ہاں یہ سچ ہے کہ بہتیرے اس زمانہ کے جاہل اور نادان مولوی اپنی حماقت سے یہی خیال رکھتے ہیں کہ جہاد اور تلوار سے دین کو پھیلانا نہایت ثواب کی بات ہے اور وہ پردہ اور نفاق سے زندگی بسر کرتے ہیں لیکن وہ ایسے خیال میں سخت غلطی پر ہیں اور ان کی غلط فہمی سے الٰہی کتاب پر الزام نہیں آ سکتا۔واقعی سچّائیاں اور حقیقی صداقتیں کسی جبر کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ جبر اس بات پر دلیل ٹھہرتا ہے کہ رُوحانی دلائل کمزور ہیں کیا وہ خدا جس نے اپنے پاک رسول پر یہ وحی نازل کی کہ یعنی تو  یعنی تو ایسا صبر کر کہ جو تمام اولوالعزم رسولوں کے صبر کے برابر ہو۔یعنی اگر تمام نبیوں کا صبر اکٹھا کر دیا جائے تو وہ تیرے صبر سے زیادہ نہ ہو اور پھر فرمایا کہ  ۳؎ یعنی دین میں جبر نہیں چاہیے اور پھر فرمایا کہ ۔۴؎ یعنی عیسائیوں کے ساتھ حکمت اور نیک وعظوں کے ساتھ مباحثہ کر نہ سختی سے۔اور پھر فرمایا  ۔۵؎ یعنی مومن وہی ہیں جو غصّہ کو کھا جاتے ہیں اور یاوہ گو اور ظالم طبع لوگوں کے حملوں کو معاف کر دیتے ہیں اور بیہودگی کا بیہودگی سے جواب نہیں دیتے۔کیا ایسا خُدا یہ