مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 560 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 560

عادت کا اس جگہ بھی پابند ہو جس کا ذکر قرآن کریم میں بتصریح موجود ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس مہیمن اور امام کتاب میں یہ دائمی قاعدہ باندھ دیا ہے کہ فاسقوں اور کافروں کے رجوع اور توبہ سے میعاد عذاب میں تاخیر واقعہ ہو جاتی ہے۔اور پھر جب وہ فسق اور کُفر اور سرکشی اور شوخی اور تکبّر کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ سے اسباب ہلاکت پیدا کر لیتے ہیں تو وہ لازوال وعدہ ظہور پذیر ہو جاتا ہے۔اور جب کتاب الٰہی میں ایک صریح سنّت اللہ موجود ہو جس کی رعایت بہرحالت ضروری ہے تو الہام میں یہ ضروری نہیں ہوگا کہ شرط کے طور پر اس سنت کا ذکر کیا جائے کیونکہ الہام ہمیشہ کتاب الٰہی کا تابع اور اس کی شرائط کا پابند ہے اور ممکن نہیں کہ صحیح اور حق الہام اس کے برخلاف ہو۔پس اگر الہام میں ایک بات کا شرط کے طور پر صریح ذکر موجود ہو یا نہ ہو لیکن اگراس بات کا کلامِ الٰہی میں صریح ذکر موجود ہے اور وہ سنت اللہ ہے تو بموجب آیت کریمہ ۔۱؎ وہ سنت اللہ اگر اس کا موقعہ الہامی پیشگوئی میں پیدا ہو جائے تو ضرور پوری ہو گی اور ممکن نہ ہو گا کہ اس کے برخلاف الہام ظاہر ہو سکے۔۲؎ مثلاً اگر کسی الہام میں عذاب کے طور پر کسی سرکش انسان کے لیے وعدہ ہے کہ وہ فلاں تاریخ تک مرے گا اور اس کا مرنا عذاب کے طور پر ہو گا اور الہام میں کوئی اور شرط بصراحت موجود نہیں۔یعنی یہ نہیں بیان کیا گیا کہ اگر وہ سرکشی کے طریق کو چھوڑ دے گا تو عذاب ملتوی ہو جائے گا۔سو اگر ایسے الہام کی میعاد میں وہ شخص جس کی نسبت الہام ہے توبہ اور استغفار کرے اور اپنے دل پر اس الہام الٰہی کی عظمت کو ڈال لے تو سنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ وہ عذاب کا وقت ٹل جاتا ہے اور دوسرے وقت پر عذاب جاپڑتا ہے یعنی جب پھر سرکشی کی طرف رجوع کرے تو عذاب نازل ہو جاتا ہے اور یہ تاخیر عذاب ایک مہلت دہی کے طورپر ہوتی ہے۔پس اگر وہ شخص اس تاخیر عذاب کی وجوہ بکلّی اپنے سر پر سے اُٹھا لیوے۔مثلاً ۱؎ الاحزاب:۶۳ ۲؎ نوٹ۔یہ بالکل سچ اور سراسر سچ ہے کہ سنت اللہ کے مخالف یعنی اس عادت اللہ کے مخالف جو ربّانی کتابوں میں قرار پا چکی ہے کوئی الہام ظاہر نہیں ہو سکتا۔چاہیے کہ رائے لگانے سے پہلے اس بات پر خوب زور سے بحث کر لو۔پھر رائے لگاؤ ورنہ وہ رائے سراسر ملحدانہ ہو گی۔منہ