مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 559
طرف جلدی کرتا ہے۔اور حلیم طبیعت اور عمیق فکر کے ساتھ نہیں سوچتا۔اے بدفطرتو! اپنی فطرتیں دکھلاؤ‘ لعنتیں بھیجو، ٹھٹھے کرو اور صادقوں کا نام کاذب اور دروغگو رکھو، لیکن عنقریب دیکھو گے کہ کیا ہوتا ہے۔تم ہم پر لعنت کرو تا فرشتے تم پر لعنت کریں۔مَیں نے بہت چاہا کہ تمہارے اندر سچائی ڈالوں اور تاریکی سے تمہیں نکالوں اور نور کے فرزند بناؤں، لیکن تمہاری بدبختی تم پر غالب آگئی۔سو اب جو چاہو لکھو۔تم مجھے دیکھ نہیں سکتے۔جب تک وہ دن نہ آوے کہ جو قادر کریم نے میرے دکھانے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ضرورتھا کہ تمہیں ابتلاء میں ڈالے اور تمہاری آزمایش کرے تا تمہارے جھوٹے دعوے فہم اور فراست اور تقویٰ اور علم قرآن کے تم پر کُھل جائیں۔یاد رکھو کہ عورت مذکورہ کے نکاح کی پیشگوئی اس قادر مطلق کی طرف سے ہے جس کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔لیکن قرآن بتلا رہا ہے کہ ایسی پیشگوئیوں کی میعادیں معلّق تقدیر کی قسم میں سے ہوتی ہیں۔لہٰذا ان کی تبدل اور تغیر کی وجوہ پیدا ہونے کے وقت ضرور وہ تاریخیں اور میعادیں ٹل جاتی ہیں۔یہی سنت اللہ ہے جس سے قرآن بھرا پڑا ہے۔پس ہر ایک پیشگوئی جو وحی اور الہام کے ذریعہ سے ہو گی ضرور ہے کہ وہ اسی سنّت کے موافق ہو جو خدا تعالیٰ کی کتابوں میں قرار پا چکی ہے اور اس زمانہ میں اس سے یہ فائدہ بھی متصور ہے کہ جو علوم ربّانی دنیا سے اُٹھ گئے تھے پھر لوگوں کی ان پر نظر پڑے اور معارف فرقانی کی تجدید ہو جائے اور نہ صرف پیشگوئی ظاہر ہو بلکہ ساتھ اس کے معارف بھی تازہ ہو جائیں اور اس پیشگوئی کے متعلق جو دقیقۂ معرفت ہے وہ یہ ہے کہ یہ پیشگوئی اسی قوم کے ڈرانے کے لیے ہے جن کی طبیعتوں میں الحاد اور ارتداد غلبہ کر گیا تھا۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی کے پہلے کلمات میں ہی فرمایا کہ یہ لوگ میری آیتوں کی تکذیب کرتے اور میرے نشانوں سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔پس جبکہ یہ پیشگوئی انذار اور تخویف پر مشتمل تھی اور موت کے وعدے محض عذاب کے طور پر تھے اس لیے ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ عذاب اور تاخیر عذاب میں اپنی اس سنّت اور