مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 541
الجواب۔اے صاحب آپ متوجہ ہوکر سنیں اور ہم سچ کہتے ہیں اور کاذب پر لعنت اللہ ہے کہ ہمارا کوئی مقرب یا بیعت کا سچا تعلق رکھنے والا عیسائی نہیں ہوا ہاں دو بدچلن اور خراب اندرون آدمی آنکھوں کے اندھے جن کو دین سے کچھ بھی تعلق نہیں تھا منافقانہ طور کے بیعت کرنے والوں میں داخل ہو گئے تھے لیکن ہم نے یہ معلوم کر کے کہ یہ بدچلن اور خراب حالت کے آدمی ہیں ان کو اپنے مکان سے نکال دیا تھا اور ناپاک طبع پاکر بیعت کے سلسلہ سے الگ کر دیا تھا۔اب فرمایئے کہ ان کا ہم سے کیا تعلق رہا اور ان کے مرتد ہونے سے ہمیں کیا رنج پہنچا۔پادریوں پر یہ بھی زوال آیا کہ ان کو انہوں نے قبول کیا اور آخر دیکھیں گے کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔حرام خور آدمی کسی قوم کے لئے جائے فخر نہیں ہوسکتا اگر آپ کو اس بیان میں شک ہو تو قادیان میں آویں اور ہم سے پورا پورا ثبوت لے لیں لیکن رائٹ تو اپنی اس حیثیت منصبی اور سرگروہی کی عزت سے معطل نہیں کیا گیا تھا اور وہی تھا جس نے مباحثہ کے پہلے انگریزی میں شرائط لکھے تھے پھر آپ کیوں ایسی صریح اور چمکتی ہوئی صداقت پر خاک ڈالتے ہیں یہ بات نہایت صاف ہے کہ اس جنگ میں جس کا نام پادریوں نے خود اپنے منہ سے جنگ مقدس رکھا تھا شکست کی چاروں صورتیں ان بندہ پرست نصرانیوں کو نصیب ہوئیں کیونکہ کوئی ان میں سے مارا گیا اور کوئی زخمی ہوا یعنی بیمار شدید ہوا اور مر مر کے بچا اور کوئی لعنتوں کے زنجیر میں گرفتار ہوا اور کوئی بھاگ گیا اور اسلامی جھنڈے کے نیچے پناہ لے کر جان بچائی اس کھلی کھلی اور فاش شکست سے انکار کرنا نہ صرف حماقت بلکہ پرلے درجہ کی بے ایمانی اور ہٹ دھرمی ہے لیکن اگر مغلوب اور ذلیل پادریوں کو خواہ نخواہ غالب قرار دینا ہے تو ہم آپ کی زبان کو نہیں پکڑ سکتے ورنہ سچ تو یہی ہے کہ اس پیشگوئی کے بعد پادریوں پر بہت ہی ذلت کی مار پڑی ہے عین میعاد پیشگوئی میں پادری رائٹ صاحب عین جوانی میں جہنم کی رونق افروزی کے لئے اس دنیا سے بلائے گئے اور ان کی موت پر اس قدر سیاپے اور درد ناک نوحے ہوئے کہ عیسائیوں نے آپ اقرار کیا کہ بے وقت ہم پر قہر نازل ہوا۔