مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 528 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 528

اقتدار پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ آزما بھی چکے ہیں تو پھر ان کی خدمت میں عرض کر دیں کہ اب اس قطعی فیصلہ کے وقت میں مجھ کو ضرور زندہ رکھیو۔یوں تو موت کی گرفت سے کوئی بھی باہر نہیں اگر آتھم صاحب چوسٹھ برس کے ہیں تو عاجز قریباً ساٹھ برس کا ہے اور ہم دونوں پر قانونِ قدرت یکساں مؤثر ہے لیکن اگر اسی طرح کی قسم کسی راستی کی آزمائش کے لئے ہم کو دی جائے تو ہم ایک برس کیا دس برس تک اپنے زندہ رہنے کی قسم کھا سکتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ دینی بحث کے وقت میں ضرور خدا تعالیٰ ہماری مدد کرے گا اور ایسا شخص تو سخت بے ایمان اور دہریہ ہوگا کہ جس کو ایسی بحث میں یہ خیال آوے کہ شاید میں اتفاقاً مر جائوں کیا زندہ رہنا اور مرنا اس کے خدا کے ہاتھ نہیں۔کیا بغیر حکم حاکم کے یوں ہی اتفاقی طور پر لوگ مرجاتے ہیں۔اور نیز اتفاق اور امکان تو دونوں پہلو رکھتا ہے مرنا اور نا مرنا بھی بلکہ نامرنے کا پہلو قوی اور غالب ہے کیونکہ مر جانا تو ایک نیا حادثہ ہے جو ہنوز معدوم ہے اور زندہ رہنا ایک معمولی امر ہے جو موجود بالفعل ہے پھر موت سے غم کرنا صریح اس امر کا ثبوت ہے کہ اپنے خدا کے کامل اقتدار پر ایمان نہیں حضرت یہ تو دو خدائوں کی لڑائی ہے اب وہی غالب ہوگا جو سچا خدا ہے۔جبکہ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے خدا کی ضرور یہ قدرت ظاہر ہوگی کہ اس قسم والے برس میں ہم نہیں مریں گے لیکن اگر آتھم صاحب نے جھوٹی قسم کھا لی تو ضرور فوت ہو جائیں گے تو جائے انصاف ہے کہ آتھم صاحب کے خدا پر کیا حادثہ نازل ہوگا کہ وہ ان کو بچا نہیں سکے گا اور منجی ہونے سے استعفٰی دے دے گا۔غرض اب گریز کی کوئی وجہ نہیں یا تو مسیح کو قادر خدا کہنا چھوڑیں اور یا قسم کھا لیں۔ہاں اگر عام مجلس میں یہ اقرار کردیں کہ ان کے مسیح ابن اللہ کو برس تک زندہ رکھنے کی تو قدرت نہیں مگر برس کے تیسرے حصہ یا تین دن تک البتہ قدرت ہے اور اس مدت تک اپنے پرستار کو زندہ رکھ سکتا ہے تو ہم اس اقرار کے بعد چار مہینہ یا تین ہی دن تسلیم کر لیں گے اگر اب بھی یہ دو ہزار روپیہ کا اشتہار پاکر منہ پھیر لیا تو ہر یک جگہ ہماری کامل فتح کا نقاّرہ بجے گا اور عیسائی اور نیم عیسائی سب ذلیل اور پست ہو جائیں گے اور ہم اس اشتہار کے روز اشاعت سے بھی ایک ہفتہ کی میعاد آتھم صاحب کو دیتے ہیں اور باقی وہی شرائط ہیں جو اشتہار