مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 527
یاد رکھیں کہ اب بھی آتھم صاحب ہرگز قسم نہیں کھائیں گے کیوں نہیں کھائیں گے اپنے جھوٹا ہونے کی وجہ سے اور یہ کہنا کہ شاید ان کو یہ دھڑکا ہو کہ ایک برس میں مرنا ممکن ہے۔پس ہم کہتے ہیں کہ کون مارے گا کیا ان کا خداوند مسیح یا اورکوئی پس جبکہ یہ دو خدائوں کی لڑائی ہے ایک سچا خدا جو ہمارا خدا ہے اور ایک مصنوعی خدا جو عیسائیوں نے بنا لیا ہے۔تو پھر اگر آتھم صاحب حضرت مسیح کی خدائی اور بقیہ نوٹ۔نے دل میں اسلام کی طرف رجوع کر لیا ہے۔تبھی تو وہ جھوٹی قسم کھانے سے پرہیز کرتے ہیں۔جبکہ تم نیم عیسائی ہوکر بدل و جان زور لگا رہے ہو کہ آتھم صاحب کسی طرح اقرار کر دیں کہ میں درحقیقت ایام میعاد پیشگوئی میں اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن رہا اور عاجز انسان کو خدا جانتا رہا۔تو پھر اگر آتھم صاحب درحقیقت پکے عیسائی اور دشمن اسلام ہیں۔تو ان کو ایسی قسم سے کون روکتا ہے جس کے کھانے کے ساتھ دو ہزار روپیہ نقد ان کو ملے گا اور جس کے نہ کھانے سے یہ ثابت ہوگا کہ عظمت اسلام ضرور ان کے دل میں سما گئی۔اور عیسائیت کے باطل اصول ان کی نظر میں حقیر اور مکروہ معلوم ہوئے۔اے نیم عیسائیو ذرہ اور زور لگائو اور آتھم صاحب کے پیروں پر سر رکھ دو شاید وہ مان لیں اور یہ پلید لعنت تم سے ٹل جائے۔ہائے افسوس عیسائی گریز کریں اور تم اصرار کرو عجیب سرشت ہے۔اے نیم عیسائیو آج تم نے وہ پیشگوئی پوری کردی۔جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جو ستر ہزار میری امت میں سے دجّال کے ساتھ مل جائے گا۔سو آج تم نے دجالوں کی ہاں کے ساتھ ہاں ملا دی تا جو اس پاک زبان پر جاری ہوا تھا وہ پورا ہو جائے۔تمہیں وہ حدیث بھی بھول گئی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک فتنہ ہوگا جس میں عیسائی کہیں گے کہ ہماری فتح ہوئی اور مہدی کے لوگ کہیں گے کہ ہماری فتح ہوئی اور عیسائیوں کیلئے شیطان گواہی دے گا کہ اَلْحَقُّ فِیْ آلِ عِیْسٰی اور مہدی کے لوگوں کیلئے رحمان گواہی دے گا کہ اَلْحَقُّ فِیْ آلِ مُحَمَّدٍ۔سو اب سوچو کہ وہی وقت آگیا۔عیسائیوں نے شیطانی مکائد سے پنجاب اور ہندوستان میں کیا کچھ نہ کیا۔یہی شیطانی آواز ہے اب رحمانی آواز کے منتظر رہو۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی۔یقینا سمجھنا چاہیے کہ ہمارا الہام کی رو سے آتھم صاحب کی پوشیدہ حالت پر اطلاع پانا کہ انہوں نے ضرور اسلامی عظمت اور صداقت کی طرف رجوع کیا ہے آتھم صاحب کے واسطے ایک نشان ہے اور اگرچہ کوئی دوسرا سمجھے یا نہ سمجھے مگر آتھم صاحب کا دل ضرور گواہی دے گا کہ یہ وہ پوشیدہ امر ہے جو ان کے دل میں تھا اور خدا تعالیٰ نے جو علیم و حکیم ہے اپنے بندہ کو اس سے اطلاع دی اور ان کے اس غم وہم سے مطلع فرمایا جو محض اسلامی شوکت اور صداقت کے قبول کرنے کی وجہ سے تھا نہ کسی اور وجہ سے اور یہی وجہ ہے کہ اب وہ میرے سامنے ہرگز مقابل پر نہیں آئیں گے کیونکہ میں صادق ہوں اور الہام سچا ہے۔منہ