مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 517 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 517

اسلامی سچائی کی طرف جھکنے سے اپنا اجر پالیا۔ہاں جب پھر بے باکی اور سخت گوئی اور گستاخی کی طرف میل کرے گا تو وہ وعدہ ضرور اپنا کام کرے گا۔اس ہمارے وعدے کا ثبوت اگر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے اپنی خوفناک حالت اور وہم اور سراسیمگی اور شہر بشہر بھاگتے پھرنے سے آپ دکھا دیا لیکن ہم اپنی فتح یابی کا قطعی فیصلہ کرنے کے لئے اور تمام دنیا کو دکھانے کے لئے کہ کیونکر ہم کو فتح نمایاں حاصل ہوئی۔یہ سہل اور آسان طریقِ تصفیہ پیش کرتے ہیں کہ اگر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کے نزدیک ہمارا یہ بیان بالکل کذب اور دروغ اور افترا ہے تو وہ مردِ میدان بن کر اس اشتہار کے شائع ہونے سے ایک ہفتہ ۱؎ تک ہماری مفصلہ ذیل تجویز کو قبول کر کے ہم کو اطلاع دیں۔اور تجویز یہ ہے کہ اگر اس پند۱۵رہ مہینہ کے عرصہ میں کبھی ان کو سچائی اسلام کے خیال نے دل پر ڈرانے والا اثر نہیں کیا اور نہ عظمت اور صداقت الہام نے گرداب غم میں ڈالا اور نہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اسلامی توحید کو انہوں نے اختیار کیا اور نہ ان کو اسلامی پیشگوئی سے دل میں ذرہ بھی خوف آیا اور نہ تثلیث کے اعتقاد سے وہ ایک ذرہ متزلزل ہوئے تو وہ فریقین کی جماعت کے روبرو تین مرتبہ انہیں باتوں کا انکار کریں کہ میں نے ہرگز ایسا نہیں کیا۔اور عظمت اسلام نے ایک لحظہ کے لئے بھی دل کو نہیں پکڑا اور میں مسیح کی ابنیّت اور الوہیّت کا زور سے قائل رہا اور قائل ہوں اور دشمن اسلام ہوں۔اور اگر میں جھوٹ بولتا ہوں۔تو میرے پر ایک ہی برس کے اندر وہ ذلت کی موت اور تباہی آوے جس سے یہ بات خلق اللہ پر کھل جائے کہ میں نے حق کو چھپایا۔جب مسٹر آتھم صاحب یہ اقرار کریں تو ہر ایک مرتبہ کے اقرار میں ہماری جماعت آمین کہے گی۔تب اسی وقت ایک ہزار روپیہ کا بدرہ باضابطہ تمسک لے کر ان کو دیا جائے گا اور وہ تمسک ڈاکٹر مارٹن کلارک اور پادری عماد الدین کی طرف سے بطور ضمانت کے ہوگا جس کا یہ مضمون ہوگا کہ یہ ہزار روپیہ بطور امانت مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کے پاس رکھا گیا۔اور اگر وہ حسب اقرار اپنے کے ایک سال کے اندر فوت ہوگئے تو اس روپیہ کو ہم ۱؎ نوٹ۔ایک ہفتہ کی میعاد تھوڑی نہیں بلکہ بہت ہے کیونکہ امرتسر سے قادیان میں دوسرے دن خط پہنچ جاتا ہے اور ہر چند اس قدر میعاد دینا مصلحت کے برخلاف ہے کیونکہ جو فریق درحقیقت شکست یافتہ ہے وہ انہیں چند روز میں سادہ لوحوں کو دھوکہ دے کر ہزاروں کو ورطہ ضلالت میں ڈال سکتا ہے مگر اتمامًا للحجّۃ یہ وسیع میعاد دی گئی ہے۔۱۲