مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 516
فتح اسلام کے بارے میں مختصر تقریر امرتسر کے مباحثہ میں جو عیسائیوں کے ساتھ ہوا تھا۔اس میں جو ہم نے پیشگوئی کی تھی۔اس کے دو حصے تھے۔۱۔اوّل یہ کہ فریق مخالف جو حق پر نہیں۔ہاویہ میں گرے گا۔اور اس کو ذلت پہنچے گی۔۲۔دوسری یہ کہ اگر حق کی طرف رجوع کرے گا تو ذلت اور ہاویہ سے بچ جائے گا۔اب ہم فریق مخالف کی اس جماعت کا پیچھے سے حال بیان کریں گے جنہوں نے بنفس خود بحث نہیں کی بلکہ معاون یا حامی یا سرگروہ ہونے کی حیثیت سے اس فریق میں داخل تھے۔اور پہلے ہم مختصر الفاظ میں مسٹر عبد اللہ آتھم کا حال بیان کرتے ہیں جو فریق مخالف سے خاص مباحثہ کے لئے اس فریق کی طرف سے تجویز کئے گئے تھے ان کی نسبت الہامی فقرہ یعنی ہاویہ کے لفظ کی تشریح ہم نے یہ کی تھی کہ اس سے موت مراد ہے بشرطیکہ حق کی طرف وہ رجوع نہ کریں۔اب ہمیں خدا تعالیٰ نے اپنے خاص الہام سے جتلا دیا کہ انہوں نے عظمت اسلام کا خوف اور ہم اور غم اپنے دل میں ڈال کر کسی قدر حق کی طرف رجوع کیا۔جس سے وعدہ موت میں تاخیر ہوئی کیونکہ ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ اپنے دل میں لحاظ رکھتا اور وہی رحیم اور کریم خدا ہے جس نے اپنی کتاب مقدس میں فرمایا ہے کہ ۱؎ یعنی جو شخص ایک ذرہ بھر بھی نیک کام کرے وہ بھی ضائع نہیں ہوگا۔اور ضرور اس کا اجر پائے گا۔سو مسٹر عبد اللہ آتھم نے الہامی شرط کے موافق کسی قدر ؎ الزلزال : ۸