مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 510
پادری عبداللہ بھی سخت بیماریوں کے ہاویہ میں گرا اور معلوم نہیں کہ بچا یا گذر گیا اور جہاں تک ہمیں علم ہے ان میں سے کوئی بھی ماتم اور مصیبت یا ذلت اور رسوائی سے خالی نہ رہا اور نہ صرف یہی بلکہ انہیں دنوں میں خدا تعالیٰ نے ایک خاص طور پر سخت ذلت اور رسوائی ان کو پہنچائی جس سے تمام ناک کٹ گئی اور وہ لوگ مسلمانوں کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے کیونکہ َمیں نے خدا تعالیٰ سے توفیق پاکر عیسائی پادریوں کی علمی قلعی کھولنے کے لئے اور اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے کہ قرآن اور اسلام پر حملہ کرنے کے لئے زبان دانی کی ضرورت ہے اور یہ لوگ زبان عربی سے بے بہرہ ہیں۔ایک کتاب جس کا نام نور الحق ہے عربی فصیح میں تالیف کی اور عماد الدین اور دوسرے تمام باقی پادریوں کو رجسٹری کرا کر خط بھیجے گئے کہ اگر عربی دانی کا دعویٰ ہے جو اسلامی مسائل میں خوض کرنے اور قرآنی فصاحت پر حملہ کرنے کے لئے ضروری ہے تو اس کتاب کے مقابل پر ایسا ہی عربی میں کتاب بنا ویں اور پانچ ہزار روپیہ انعام پاویں اور اگر انعام کے بارہ میں شک ہو تو پانچ ہزار روپیہ پہلے جمع کرا دیں۔اور یہ بھی لکھا گیا کہ اسلامی صداقت کا یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نشان ہے اگر اس کو توڑ دیں اور عربی میں ایسی کتاب بلیغ فصیح بناویں تو انعام مذکور بلاتامل ان کو ملے گا جس جگہ چاہیں اپنی تسلی کے لئے روپیہ جمع کرا لیں اور بالمقابل کتاب بنانے کی حالت میں نہ صرف انعام بلکہ آئندہ تسلیم کیا جائے گا کہ درحقیقت وہ اپنے دعوے کے موافق مولوی ہیں اور ان کو حق پہنچتا ہے کہ قرآن شریف کی فصاحت بلاغت پر اعتراض کریں اور نیز وہ بالمقابل کتاب بنانے سے ہمارے الہام کا کذب بھی بڑے سہل طریق سے ثابت کر دیں گے اور اگر وہ ایسا نہ کر سکیں تو پھر ثابت ہوگا کہ وہ جھوٹ اور افتراء سے اپنے تئیں مولوی نام رکھتے ہیں اور درحقیقت جاہل اور نادان ہیں اور نیز اس صورت میں وہ ہزار لعنت بھی ان پر پڑے گی جو رسالہ نور الحق کے چار صفحوں میں بلکہ کچھ زیادہ میں صرف اس غرض سے لکھی گئی ہے کہ اگر یہ پادری لوگ بالمقابل رسالہ نہ بنا سکیں اور نہ اپنے تئیں مولوی اور عربی دان کہلانے سے باز آویں اور نہ قرآن کی اعجازی فصاحت پر حملہ کرنے سے رکیں تو یہ ہزار لعنت ان پر قیامت تک ہے لیکن باوجود ان سخت لعنتوں کے جو مرنے سے کروڑہا درجہ بدتر ہیں پادری عماد الدین