مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 509 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 509

پروہ رنج اور غم اور بدحواسی وارد ہوئی جس کو ہم آگ کے عذاب سے کچھ کم نہیں کہہ سکتے۔ہاں اعلیٰ نتیجہ ہاویہ کا جو ہم نے سمجھا اور جو ہماری تشریحی عبارت میں درج ہے یعنی موت وہ ابھی تک حقیقی طور پر وارد نہیں ہوا کیونکہ اس نے عظمت اسلام کی ہیبت کو اپنے دل میں دھنسا کر الٰہی قانون کے موافق الہامی شرط سے فائدہ اٹھا لیا مگر موت کے قریب قریب اس کی حالت پہنچ گئی اور وہ درد اور دکھ کے ہاویہ میں ضرور گرا اور ہاویہ میں گرنے کا لفظ اس پر صادق آگیا پس یقینا سمجھو کہ اسلام کو فتح حاصل ہوئی اور خدا تعالیٰ کا ہاتھ بالا ہوا اور کلمہ اسلام اونچا ہوا اور عیسائیت نیچے گری۔فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ یہ تو مسٹر عبد اللہ آتھم کا حال ہوا مگر اس کے باقی رفیق بھی جو فریق بحث کے لفظ میں داخل تھے اور جنگِ مقدس کے مباحثہ سے تعلق رکھتے تھے خواہ وہ تعلق اعانت کا تھا یا بانی کار ہونے کا یا مجوز بحث یا حامی ہونے کا یا سرگروہ ہونے کا ان میں سے کوئی بھی اثر ہاویہ سے خالی نہ رہا اور ان سب نے میعاد کے اندر اپنی اپنی حالت کے موافق ہاویہ کا مزہ دیکھ لیا۔چنانچہ اوّل خدا تعالیٰ نے پادری رائٹ کو لیا جو دراصل اپنے رتبہ اور منصب کے لحاظ سے اس جماعت کا سرگروہ تھا اور وہ عین جوانی میں ایک ناگہانی موت سے اس جہان سے گذر گیا اور خدا تعالیٰ نے اُس کی بے وقت موت سے ڈاکٹر مارٹین کلارک اور ایسا ہی اس کے دوسرے تمام دوستوں اور عزیزوں اور ماتحتوں کو سخت صدمہ پہنچایا ۱؎ اور ماتمی کپڑے پہنا دیئے اور اس کی بے وقت موت نے ان کو ایسے دکھ اور درد میں ڈالا جو ہاویہ سے کم نہ تھا اور ایسا ہی پادری ہاول بھی ایسی سخت بیماری میں پڑا کہ ایک مدت کے بعد مر مر کے بچا اور ۱؎ فٹ نوٹ۔پادری رائٹ صاحب کی وفات پر جو افسوس گرجا میں ظاہر کیا گیا۔اس میں عیسائیوں کی مضطربانہ اور خوف زدہ حالت کا نظارہ مفصلہ ذیل الفاظ سے آئینہ دل میں منقش ہوسکتا ہے جو اس وقت پریچر کے مرعوب اور مغضوب دل سے نکلے اور وہ یہ ہیں۔آج رات خدا کے غضب کی لاٹھی بے وقت ہم پر چلی اور اس کی خفیہ تلوار نے بے خبری میں ہم کو قتل کیا و بس۔رائٹ صاحب امرتسر کے آنریری مشنری تھے اور علاوہ ازیں پادری فورمین لاہور میں مرے۔