مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 492
کرانے کے لئے درخواست نہ بھیجی اور اب وہ وقت جاتا رہا۔ہاں انہوں نے نکتہ چینی کے لئے جو ہمیشہ نالائق اور حاسد طبع لوگوں کا شیوہ ہے بہت ہاتھ َپیر مارے اور بعض خوش فہم آدمی چند سہو کاتب یاکوئی اتفاقی غلطی نکال کر انعام کے امیدوار ہوئے اور ذرّہ آنکھ کھول کر یہ بھی نہ دیکھا کہ فی غلطی انعام دینے کے لئے یہ شرط ہے کہ ایسا شخص اوّل بالمقابل رسالہ لکھے ورنہ حاسد نکتہ چین جو اپنا ذاتی سرمایہ علمی کچھ بھی نہیں رکھتے دنیا میں ہزاروں بلکہ لاکھوں ہیں کس کس کو انعام دیا جائے۔چاہیے کہ اوّل مثلاً اس رسالہ سرّ الخلافہ کے مقابل پر رسالہ لکھیں اور پھر اگر ان کا رسالہ غلطیوں سے خالی نکلا اور ہمارے رسالہ کا بلاغت فصاحت میں ہم پلّہ ثابت ہوا تو ہم سے علاوہ انعام بالمقابل رسالہ کے فی غلطی دو روپیہ بھی لیں جس کے لئے ہم وعدہ کر چکے ہیں ورنہ یونہی نکتہ چینی کرنا حیا سے بعید ہو گا۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی خاکسار غلام احمد (یہ اشتہار سرّ الخلافہ طبع اوّل کے ٹائیٹل پر اندرونی صفحہ پر ہے) (روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۳۱۶) ------------------------------