مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 491
نکتہ چینوں کے لئے ہدایت اور واقعی غلطی کی شناخت کے لیے ایک معیار اکثر جلد باز نکتہ چین خاص کر شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی جو ہماری عربی کتابوں کو عیب گیری کی نیت سے دیکھتے ہیں بباعث ظلمت تعصب کا تب کے سہو کو بھی غلطی کی مد میں ہی داخل کر دیتے ہیںلیکن درحقیقت ہماری صرفی یا نحوی غلطی صرف وہی ہو گی جس کے مخالف صحیح طور پر ہماری کتابوں کے کسی اور مقام میں نہ لکھا گیا ہو۔مگر جب کہ ایک مقام میں کسی اتفاق سے غلطی ہو اور وہی ترکیب یا لفظ دوسرے دس۱۰ بیس۲۰ یا پچاس۵۰ مقام میں صحیح طور پر پایا جاتا ہو تو اگر انصاف اور ایمان ہے تو اس کو سہو کاتب سمجھنا چاہیے نہ غلطی حالانکہ جس جلدی سے یہ کتابیں لکھی گئی ہیں اگر اس کو ملحوظ رکھیں تو اپنے ظلمِ عظیمِ کے قائل ہوں اور ان تالیفات کو خارق عادت سمجھیں۔قرآن شریف کے سوا کسی بشر کا کلام سہو اور غلطی سے خالی نہیں۔بٹالوی صاحب خود قائل ہیں کہ لوگوں نے کلام امرء القیس اور حریری کی بھی غلطیاں نکالیں مگر کیا ایسا شخص جس نے اتفاقاً ایک غلطی پکڑی حریری یا امرء القیس کے مرتبہ پر شمار ہو سکتا ہے۔ہرگز نہیں۔نکتہ آوری مشکل ہے اور نکتہ چینی ایک ادنیٰ استعداد کا آدمی بلکہ ایک غبی محض کر سکتا ہے۔ہماری طرف سے حمامۃ البشریٰ اور نور الحق کے بالمقابل رسالہ لکھنے کے لئے اخیر جون ۱۸۹۴ء تک میعاد تھی وہ گذرگئی۔مگر کسی مولوی نے بالمقابل رسالہ لکھنے کی غرض سے انعام جمع