مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 421

قبول کرنے کے لیے ننگ و ناموس بلکہ موت سے بھی نہیں ڈرتے۔اب سوچنے ہی کا مقا م ہے کہ عبدالحق نے آپ ہی مباہلہ کو معیار حق و باطل ٹھہرا کر اشتہار دیا۔اور جب ایک مردِ خدا اُس کے مقابل پر اُٹھا اور مباہلہ کیا تو ساتھ ہی فکر پڑی کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی عذاب نازل ہو کر پھر مجھ کو حق کے قبول کرنے کے لیے مجبور کیا جاوے۔تب اسی وقت اُس نے اُسی مجلس میں کہہ دیا کہ اگر وہ لعنت جو میں نے اپنے ہی مُنہ سے اپنے پر کی ہے۔مجھ پر نازل ہو گئی اور میرا جھوٹا ہونا کھل گیا۔تب بھی مَیں سچ کو قبول نہیں کروں گا گو میں سؤر اور بندر اور ریچھ بھی بنایا جائوں۔پس اس سے زیادہ تر لعنت اَور کیا ہو گی کہ دُور دُور تک ضِد کے خیمے لگا رکھے ہیں اور بندر اور سؤر بننا اپنے لیے پسند کر لیا، مگر حق کو قبول کرنا پسند نہیں کیا۔یہ بھی سمجھ نہیں کہ اگر مباہلہ کے بعد بھی حق کو قبول نہیں کرتا توپھر ایسے مباہلہ سے فائدہ ہی کیا ہے؟ اور اگر اپنی ہی دعا کے قبول ہونے اور لعنت کے آثار ظاہر ہونے پر بدن نہیں کانپتا تو یہ ایمان کس قسم کا ہے اور تعجب کہ یہ بات کہنا کہ اگر مَیں اپنے منہ کی لعنت کا اثر اپنے پر دیکھ بھی لوں اور جو تضرع سے درخواست عذاب کی تھی اس عذاب کا وارد ہونا بھی مشاہدہ کر لوں۔پھر بھی میں تکفیر سے باز نہیں آئوں گا۔کیا یہ ایمانداروں کے علامات ہیں۔اور کیا اسی خُبثِ نیّت پر مباہلہ کا جوش و خروش تھا۔اور چونکہ اس عاجز کی طرف سے مباہلہ کا اشتہار شائع ہو چکا ہے۔اور یہ اندیشہ ہے کہ کہیں دوسرے بزرگ بھی وہی اپنا جوہر نہ دکھاویں جو عبد الحق نے دکھلایا۔یعنی مباہلہ کے آثار کو اپنے لیے تو اپنے مفید مطلب ہونے کی حالت میں حجت ٹھہرا لیا۔مگر مخالف کے لیے یہ حجت نہیں۔لہٰذا اس اشتہار میں خاص طور پر میاں محمد حسین بطالوی اور میاں محی الدین لکھوکے والا۔اور مولوی عبد الجبّار صاحب غزنوی اور ہر ایک نامی مولوی یا سجادہ نشین کو جو اس عاجز کو کافر سمجھتا ہو۔مخاطب کر کے عام طور پر شائع کیا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنے تئیں صادق قرار دیتے ہیں تو اس عاجز سے مباہلہ کریں اور یقین رکھیں کہ خداوند تعالیٰ ان کو رُسوا کرے گا۔لیکن یہ بات واجبات سے ہو گی کہ فریقین اپنی اپنی تحریریں بہ ثبت دستخط گواہان شائع کر دیں کہ اگر کسی فریق پر لعنت کا اثر ظاہر ہو گیا تو وہ شخص اپنے عقیدہ سے رجوع کرے گا اور اپنے فریق مخالف کو سچا مان لے گا۔اور اس مباہلہ کے لیے اشخاص مندرجہ ذیل بھی خاص