مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 398

دعوت کھانے آئے تھے تو انہوں نے اس خط کو یاد کر کے رونا شروع کر دیا تھا اور شاید روٹی پر بھی بعض قطرے آنسوئوں کے پڑے ہوں۔پھر وہ آگ پر پانی ڈالنا کیوں یاد نہ رہا۔اور اگر میں نے رہائی کی خبر شائع نہیں کی تھی تو پھر وہ صد ہا آدمیوں میں قبل از رہائی مشہور کیونکر ہوگئی تھی اور کیوں آپ کے بعض رشتہ دار جلدی ۱؎ کر کے اس خبر کے صدق پر اعتراض کرتے تھے جو اب تک زندہ موجود ہیں اور پھر آپ نے کیوں میرے خط کا یہ خلاصہ مجھ کو تحریر کیا کہ گویا میں نے خط میں صرف اتنا ہی لکھا تھا کہ فضل ہوجائے گا یہ کیسی ناخدا ترسی ہے کہ مجالس میں افترا کی تہمت لگا کر دل کو دکھایا جائے۔خیر اب ہم بطریق تنزل ایک آسان فیصلہ اپنے صدق اور کذب کے بارے میں ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے۔فیصلہ آج رات میں نے جو ۲۵؍ فروری ۱۸۹۳ء کی رات تھی۔شیخ صاحب کی ان باتوں سے سخت دردمند ہو کر آسمانی فیصلہ کیلئے دعا کی۔خواب میں مجھ کو دکھلایا گیا کہ ایک دوکاندار کی طرف میں نے کسی قدر قیمت بھیجی تھی کہ وہ ایک عمدہ اور خوشبودار چیز بھیج دے اس نے قیمت رکھ کر ایک بدبودار چیز بھیج دی وہ چیز دیکھ کر مجھے غصہ آیا اور میں نے کہا کہ جائو دوکاندار کو کہو کہ وہی چیز دے ورنہ میں اس دغا کی اُس پر نالش کروں گا اور پھر عدالت سے کم سے کم چھ ماہ کی اُس کو سزا ملے گی اور امید تو زیادہ کی ہے تب دوکاندار نے شاید یہ کہلا بھیجا کہ یہ میرا کام نہیں یا میرا اختیار نہیں اور ساتھ ہی یہ کہلا بھیجا کہ ایک سودائی پھرتا ہے اس کا اثر میرے دل پر پڑ گیا اور میں بھول گیا اور اب وہی چیز دینے کو تیار ہوں- اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ شیخ صاحب پر یہ ندامت آنے والی ہے اور انجام کار وہ نادم ہوں گے اور ابھی کسی ۱؎ آپ کے رشتہ دار شاید ہمشیرہ زادہ شیخ میراں بخش ساکن دسوہہ نے بمقام امرتسر اپنی دوکان پر روبرو شیخ سندھی خان ساکن خانپور میرے ملازم شیخ حامد علی سے نومیدی رہائی کی حالت میں تکرار کی تھی کہ مرزا غلام احمد تو کہتے تھے کہ شیخ صاحب بَری ہو جائیں گے اور اب وہ پھانسی ملنے لگے ہیں۔حامد علی کا بیان ہے کہ میں نے کہا تھا کہ انجام دیکھنے کے بعد اعتراض کرنا۔منہ