مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 356

  نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ دوست آں باشد کہ گیر د دستِ دوست در پریشان حالی و درماندگی ۱؎ اِس وقت میں ضروری طور پر اپنے دوستوں کی خدمت میں التماس کرتا ہوں کہ اخویم مکرم حضرت مولوی سیّد محمد احسن صاحب جو اس وقت بمقام بھوپال محلہ چوبدار پورہ میں نوکری سے علیحدہ ہو کر خانہ نشین ہیں بوجہ تکالیفِ عُسر ہمدردی کے لائق ہیں۔اگرچہ مولوی صاحب موصوف بڑے صابر اور متوکّل اور خدا تعالیٰ پر اپنے کاروبار چھوڑنے والے ہیں لیکن ہمیں خود موقعہ ثواب کو ہاتھ سے نہیں دینا چاہیے۔حضرت مکرم مولوی حکیم نور دین صاحب ایسے للّہی کاروبار اور نوائب الحق میں سب سے پہلے قدم رکھتے تھے۔مگر اس وقت برادر موصوف اپنے تعلق ملازمت ریاست جموںسے علیحدہ ہو گئے ہیں۔لہٰذا ہریک بھائی کی اپنی اپنی مقدرت کے موافق توجہ درکار ہے۔پہلے اکثر صاحب اس رائے کی طرف مائل تھے کہ جس وقت حضرت مولوی سیّد محمد احسن صاحب کے لیے ایک رقم معقول چندہ ماہواری کی جو چالیس روپیہ ماہواری سے کم نہ ہو، قرار پا جائے تو اُس وقت مولوی صاحب کو پنجاب میں بُلا لیا جائے اور جس وقت وہ تشریف لے آویں اُسی تاریخ سے ماہواری چندہ ادا کرنا لازم سمجھا جائے، مگر مَیں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کو اس تفرقہ اور پریشانی میں ڈالنا ضروری نہیں۔خدمتِ دین کا کام وہ بھوپال میں رہ کر بھی کر سکتے ہیں۔مناسب ہے کہ ہریک صاحب جو چندہ دینے کو طیار ہیں یکم اگست ۱۸۹۲ء سے اپنے ذمہ چندہ واجب الادا قرار دیں اور دو ماہ کا چندہ یعنی بابت ۱؎ ترجمہ۔دوست وہی ہوتا ہے جو پریشانی اور لاچاری کی حالت میں دوست کا ہاتھ تھامے۔