مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 337
پر کھڑے نہیں ہوتے۔صاحب من! میں تو بحکم اﷲ جَلَّ شَانُـہٗ کھڑا ہوں اور خدا تعالیٰ کے یقین دلانے سے قطعی طور پر جانتا ہوں کہ اگر کوئی صوفی وغیرہ میرے مقابل آئے گا۔تو خدا تعالیٰ اس کو سخت ذلیل کرے گا۔یہ میں نہیں کہتا بلکہ اس واحد لاشریک عَزَّ اِسْمُہٗ نے مجھ کو خبر دی ہے جس پر مجھ کو بھروسہ ہے۔ایسے صوفیوں کی مَیں کس سے مثال دوں وہ ان عورتوں کی مانند ہیں جو گھر کے دروازے بند کر کے بیٹھیں اور پھر کہیں کہ ہم نے مردوں پر فتح پائی۔ہمارے مقابل پر کوئی نہ آیا۔مَیں پھر مکرر کہتا ہوں کہ بٹالوی کی تحریر سے مجھ کو سخت شُبہ ہے اور اس کے ہر روزہ افترا پر خیال کر کے میرے دل میں یہی جما ہوا ہے کہ یہ صوفی کا تذکرہ محض فرضی طور پر اس نے اپنی اشاعۃ السنّہ میں لکھ دیا ہے ورنہ مقابلہ کا دم مارنا اور پھر پردہ میں رہنا کیا راست باز آدمیوں کا کام ہے۔اس صوفی کو چاہیے کہ میری طرح کھلے اشتہار دے کہ میں حسب دعوت فیصلہ آسمانی تمہارے مقابل پر آیا ہوں۔اور میں فلاں ابن فلاں ہوں۔اگر اس اشتہار کے شائع ہونے اور میرے پاس پہنچائے جانے کے بعد میں خاموش رہا تو جس قدر آپ نے اپنے اس خط میں ایسے الفاظ لکھے ہیں کہ ’’حیلہ بہانہ کیوں کرتے ہو۔صاف باطن دغل باز نہیں ہوتے۔‘‘ یہ سارے الفاظ آپ کے میری نسبت صحیح ٹھہریں گے ورنہ دشنام دہی سے زیادہ نہیں۔جب انسان کی آنکھ بند ہو جاتی ہے تو اس کو روز روشن بھی رات ہی معلوم ہوتی ہے۔اگر آپ کی آنکھ میں ایک ذرّہ بھی نُور باقی ہوتا تو آپ سمجھ لیتے کہ حیلہ بہانہ کون کرتا ہے۔کیا وہ شخص جس نے صاف طور پر دو ہزار اشتہار تقسیم کر کے ایک دنیا پر ظاہر کر دیا کہ میں میدان میں کھڑا ہوں۔کوئی میرے مقابل پر آوے یا وہ شخص کہ چوروں کی طرح غار کے اندر بول رہا ہے۔جو لوگ حق کو چھپاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی ان پر لعنت ہے۔پس اگر یہ صوفی درحقیقت کوئی انسان ہے تو محمد حسین کی ناجائز وکالتوں کے بُرقع میں مخفی نہ رہے اور خدا تعالیٰ کی لعنت سے ڈرے۔اگر اس کے پاس حق ہے تو حق کو لے کر میدان میں آ جائے۔جبکہ مجھ کو کوئی معیّن شخص سامنے نظر نہیں آتا تو میں کس سے مقابلہ کروں۔کیا مُردہ سے یا ایک فرضی نام سے۔اور آپ کو یاد رہے کہ اگر میری نظر میں یہ صوفی ایک خارجی وجود رکھتا تو مَیں جیسا کہ میر ے پر ظاہر ہوتا اس کے مرتبہ کے لحاظ سے باخلاق اس سے کلام کرتا۔مگر جبکہ