مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 325
منصفین کے غور کے لائق یہ بات بالکل سچ ہے کہ جب دل کی آنکھیں بند ہوتی ہیں تو جسمانی آنکھیں بلکہ سارے حواس ساتھ ہی بند ہوجاتے ہیں پھر انسان دیکھتا ہوا نہیں دیکھتا اور سنتا ہو۱ نہیں سنتا اور سمجھتا ہوا نہیں سمجھتا اور زبان پر حق جاری نہیں ہوسکتا۔دیکھو ہمارے محجوب مولوی کیسے دانا کہلا کر تعصب کی وجہ سے نادانی میں ڈوب گئے دینی دشمنوں کی طرح آخر افترائوں پر آگئے۔ایک صاحب اس عاجز کی نسبت لکھتے ہیں کہ ایک اپنے لڑکے کی نسبت الہام سے خبردی تھی کہ یہ باکمال ہوگا حالانکہ وہ صرف چند مہینہ جی کر مر گیا۔مجھے تعجب ہے کہ ان جلد باز مولویوں کو ایسی باتوں کے کہنے کے وقت کیوں ۱؎ کی آیت یاد نہیں رہتی اور کیوں یکدفعہ اپنے باطنی جذام اور عداوت اسلام کو دکھلانے لگے ہیں اگر کچھ حیا ہو تو اب اس بات کا ثبوت دیں کہ اس عاجز کے کس الہام میں لکھا گیا ہے کہ وہی لڑکا جو فوت ہوگیا درحقیقت وہی موعود لڑکا ہے الہام الٰہی میں صرف اجمالی طور پر خبر ہے کہ ایسا لڑکا پیدا ہوگا اور خدا تعالیٰ کے پاک الہام نے کسی کو اشارہ کر کے مورد اس پیشگوئی کا نہیں ٹھہرایا بلکہ اشتہار فروری ۱۸۸۶ء میں یہ پیشگوئی موجود ہے کہ بعض لڑکے ِصغرسن میںفوت بھی ہوں گے پھر اس بچے کے فوت ہونے سے ایک پیشگوئی پوری ہوئی یا کوئی پیشگوئی جھوٹی نکلی۔اب فرض کے طور پر کہتا ہوں کہ اگر ہم اپنے اجتہاد سے کسی اپنے بچہ پر یہ خیال بھی کرلیں کہ شاید یہ وہی پسر موعود ہے اور ہمارا اجتہاد خطا جائے ۱؎ آل عمران: ۶۲