مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 13
دیکھیں گے کہ آپ نے باثبات دونوں امر مندرجہ اشتہار کے کیا کیا وجوہات پیش کئے ہیں۔لیکن یہ امر کسی منصف کے اختیار میں نہ ہو گا کہ صرف اس قدر رائے ظاہر کرے کہ ہماری دانست میں یہ ہے یا وہ ہے۔بلکہ اگر کوئی ایسی رائے ظاہر کرے تو یہ سمجھا جائے گا کہ گویاا س نے کوئی رائے ظاہر نہیں کی۔غرض کوئی رائے میں نہیں لیا جائے گا جب تک اس صورت سے تحریر نہ ہو کہ اصل وجوہات متخاصمین کو پورا پورا بیان کر کے بتقریر مدلّل ظاہر کرے کہ کس طور سے یہ وجوہات ٹوٹ گئیں یا بحال رہیں اور علاوہ اس کے یہ سب منصفانہ آراء سے سفیر ہند میں درج ہوں گے نہ کسی اور پرچہ میں بلکہ صاحبان منصفین اپنی اپنی تحریر کو براہ راست مطبع ممدوح الذکر میں ارسال فرمائیں گے باستثنا بابو رلیارام صاحب کے اگر وہ اس شوریٰ تنقید جواب میں داخل ہوئے تو اُن کو اپنا رائے اپنے پرچہ میں طبع کرنا ہو گا اور جب کہ یہ سب آراء بقید ِ شرائط متذکرہ بالا کے طبع ہو جائیں گی تو اس وقت کثرت رائے پر فیصلہ ہوگااور اگر ایک نمبر بھی زیادہ ہو تو باوا صاحب کو ڈگری ملے گی۔ورنہ آنجناب مغلوب رہیں گے۔اشتہار مبلغ پانچ سو روپیہ۰۰ ۵ ۱۸۷۸ء میں راقم اس سوال کا جو آریہ سماج کی نسبت پرچہ ۹؍ فروری اور بعد اس کے سفیر ہند میں بدفعات درج ہو چکا ہے، اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کر کے لکھ دیتا ہوں کہ اگر باوا نرائن سنگھ صاحب یا کوئی اور صاحب منجملہ آریہ سماج کے جو اُن سے متفق الرائے ہوں۔ہماری ان وجوہات کا جواب جو سوال مذکورہ میںد رج ہے اور نیز ان دلائل کے تردید جوتبصرہ مشمولہ اشتہار ہذا میں مبین ہے پورا پورا ادا کر کے بدلائل حقّہ یقینیہ یہ ثابت کر دے کہ ارواح بے انت ہیں اور پرمیشور کو ان کی تعداد معلوم نہیں تو میں پانچسو روپیہ نقد اس کو بطور جُرمانہ کے دوں گا اور در صورت نہ ادا ہونے روپیہ کے مجیب مثبت کو اختیار ہو گا کہ امداد عدالت سے وصول کرے۔تنقید جواب کی اُس طرح عمل میں آوے گی جیسے تنقیح شرائط میں اوپر لکھا گیا ہے۔اور نیز جواب باوا صاحب کا بعد طبع اور شائع ہونے تبصرہ ہمارے کے مطبوع ہو گا۔المشتہر:۔مرزا غلام احمد۔رئیس قادیان (منقول از تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ ۲ تا۶۔حیات احمد جلد اوّل نمبر دوم صفحہ ۱۸۹ تا ۱۹۲ طبع دوم)