مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 12
بشرائط مشروط پرچہ ہذا کے طبع ہو کرشائع ہو جائیں گی۔(۴) شرط چہارم میں باوا صاحب نے صاحبان مندرجہ ذیل کومنصفان تنقید جواب قرار دیا ہے۔مولوی سیّد احمد خان صاحب۔منشی کنہیا لال صاحب۔منشی اندرمن صاحب۔مجھ کو منصفان مجوزہ باوا صاحب میں کسی نہج کا عذر نہیں بلکہ میں ان کاشکریہ ادا کرتا ہوں جو انہوں نے تجویز تقرر ثالثان میں مولوی سیّد احمد خان صاحب کا نام بھی جو ہم سے اخوت اسلام رکھتے ہیں، درج کر دیا۔اس لیے میں بھی اپنے منصفان مقبولہ میں ایک فاضل آریہ صاحب کو جن کی فضیلت میں باوا صاحب کو بھی کلام نہیں، باعتماد طبیعت صالحانہ اور رائے منصفانہ ان کی کے داخل کرتا ہوں جن کے نام نامی یہ ہیں۔سوامی پنڈت دیانند سرسوتی۔حکیم محمد شریف صاحب امرتسری۔مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب لاہوری۔لیکن اتنی عرض اور ہے کہ علاوہ ان صاحبوں کے کہ فریقین کے ہم مذہب ہیں۔دو صاحب مسیحی مذہب بھی ممبر تنقید جواب کے لیے قرارپانے چاہئیں۔سو میری دانست میں پادری رجب علی صاحب اور بابو رلیارام صاحب جوعلاوہ فضیلت علمی اور طبیعت منصفانہ کے اس بحث جاری شدہ سے بخوبی واقف ہیں بشرطیکہ صاحبین موصوفین براہ مہربانی اس شوریٰ میں داخل ہونا منظور کر لیں اور آپ کو بھی اس میں کوئی کلام نہ ہو، بہتر اور انسب ہیں۔ورنہ بالآخر اس طرح تجویز ہو گی کہ ایک صاحب مسیحی مذہب کو آپ قبول کر کے اطلاع دے دیں اور ایک کے اسم مبارک سے میں مطلع کروںگا۔اور تصفیہ اس طرح پر ہو گا کہ بعد طبع ہونے جواب آپ کے ان صاحبوں کو جو حسب ِ مرضی فریقین ثالث قرار پائے ہیں بذریعہ خانگی خطوط کے اطلاع دی جائے گی لیکن ہر ایک فریق ہم دونوں میں سے ذمہ وار ہو گا کہ اپنے منصفین مجوزہ کو آپ اطلاع دے۔تب صاحبان منصفین اوّل ہمارے سوال نمبر ۱ کو دیکھیں گے اور بعد اس کے تبصرہ مشمولہ شرائط ہذاکو جس میں آپ کے جواب الجواب کا جو ۱۸؍ فروری آفتاب پنجاب میں طبع ہوا تھا، ازالہ ہے۔بغور ملاحظہ فرمائیں گے۔پھر آپ کا جواب بتدبّر تمام پڑھ کر جانچیں گے کہ آیا اس جواب سے وجوہات ہمارے ردّ ہو گئے یا نہیں؟ اور یہ بھی