مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 289

رائے کرنے کے لیے وہی تحریرات یقینی ذریعہ مل جائے۔آپ یقینا یاد رکھیں کہ یہ آپ کی جھوٹی خوشی ہے او ر یہ آپ کا غلط خیال ہے کہ یقینی اور قطعی طور پر مسیح ابنِ مریم زندہ بجسدہِ العنصری آسمان کی طرف اُٹھایا گیا ہے۔جس دن بحث کے لیے آپ میرے سامنے آئیں گے اس دن تمام یہ خوشی رنج کے ساتھ مُبدّل ہو جائے گی اور سخت رسوائی سے آپ کو اس قول سے رجوع کرنا پڑے گا کہ درحقیقت آیات بیّنہ صریحہ و قطعیۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ متصلہ مرفوعہ سے حضرت مسیح ابن مریم کی جسمانی زندگی ثابت ہے۔اگرچہ آپ درس قرآن و حدیث میں ریش و بروت سفید کر بیٹھے ہیں۔مگر حقیقت تک آپ کو کسی استاد نے نہیں پہنچایا۔اور مغز قال اللہ اور قال الرسول سے دور مہجور و بے نصیب محض ہیں۔آپ کو شرم کرنی چاہیے کہ شیخ الکل ہونے کا دعویٰ اور پھر اس فضیحت کی غلطی کہ آپ یقین رکھتے ہیں کہ ایسی آیات صریحۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ موجود ہیں جن سے مسیح ابن مریم کا زندہ بجسدہِ العنصری آسمان پر جانا ثابت ہوتا ہے۔شاید ایسی حدیثیں آپ کی کوٹھری میں بند ہوں گی جو اب تک کسی پر ظاہر نہیں ہوئیں۔اگر آپ کو کچھ شرم ہے تو اب بلاتوقف بحث کے لیے میدان میں آ جائیں۔تا سیہ رُوئے شود ہر کہ دروغش باشد۔اگر آپ اس مسئلہ میں بحث کرنے کے لیے نہ آئے اور مفسد طبع ملّانوں پر بھروسہ رکھ کر کوٹھری میں چھپ گئے تو یاد رکھو کہ تمام ہندوستان و پنجاب میں ذلّت اور بد نامی کے ساتھ آپ مشہور ہو جائیں گے اور شیخ الکل ہونے کی تمام رونق جاتی رہے گی۔مَیں متعجب ہوں کہ آپ کس بات کے شیخ الکل ہیں۔قرائن سے اس بات کا یقین آتا ہے کہ آپ نے ہی ایک بدزبان بٹالوی فطرت کے بگڑے ہوئے شیخ کو در پردہ سمجھا رکھا ہے کہ مساجد اور مجالس میں اور نیز آپ کے مکان پر علانیہ اس عاجز کو گالیاں دیا کرے۔چنانچہ اس نیک بخت کا یہی کام ہے کہ آپ کو تو ہر جگہ شیخ الکل کہہ کر دوسروں کی ہجوملیح کرتا ہے۔اور اس عاجز کو جابجا شیطان، دجّال، بے ایمان ،کافر کے نام سے یاد کرتا ہے مگر درحقیقت یہ گالیاں اس کی طرف سے نہیں آپ کی طرف سے ہیں۔کیونکہ اگر ذرہ سی بھی دھمکی آپ کی طرف سے ملتی تو وہ دم بخود رہ جاتا۔بلکہ مَیں نے سُنا ہے کہ آپ اس شخص کے مخالف نہیں بلکہ ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں اور آپ پر واضح رہے کہ کسی قدر درشتی جو اس تحریر میں استعمال کی گئی ہے وہ درحقیقت